تحریر: ڈاکٹر محمد داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
شاید آپ نے بھی کبھی یہ عجیب منظر دیکھا ہو کہ ایک ہی کمرے، پارک یا خاندانی محفل میں بیٹھے کئی افراد میں سے مچھر جیسے صرف آپ ہی کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ باقی لوگ سکون سے گفتگو یا کھانے میں مصروف ہوتے ہیں، جبکہ آپ بار بار مچھر اڑا رہے ہوتے ہیں، جسم کھجا رہے ہوتے ہیں اور بے چینی سے اپنی جگہ بدل رہے ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر اکثر کوئی نہ کوئی مسکراتے ہوئے کہتا ہے، "لگتا ہے تمہارا خون بڑا میٹھا ہے، اسی لیے مچھر تمہیں زیادہ کاٹتے ہیں۔”
یہ ایک ایسا جملہ ہے جو شاید ہم سب نے بچپن سے سنا ہے، لیکن جدید سائنس نے اس تصور کو تقریباً غلط ثابت کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مچھر خون کا ذائقہ چکھنے سے پہلے ہی فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے کس انسان کو کاٹنا ہے۔ اس کا انتخاب خون کی مٹھاس پر نہیں بلکہ ہمارے جسم سے خارج ہونے والی بے شمار کیمیائی علامات، سانس، جسمانی حرارت، پسینے اور جلد کی منفرد خوشبو پر منحصر ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، مچھر ہمارے خون سے زیادہ ہمارے جسم کی کیمیائی شناخت کو پہچانتا ہے۔
حال ہی میں بی بی سی فیوچر میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی مضمون میں مچھروں کے رویّوں پر ہونے والی کئی دہائیوں کی سائنسی تحقیق کا خلاصہ پیش کیا گیا۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھر انتہائی حساس حسی نظام رکھتے ہیں اور کئی میٹر دور سے انسان کی موجودگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف مادہ مچھر انسان کو کاٹتی ہے، کیونکہ اسے اپنے انڈوں کی افزائش کے لیے خون میں موجود پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ نر مچھر صرف پھولوں کا رس چوستے ہیں۔
مادہ مچھر سب سے پہلے ہماری سانس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کرتی ہے۔ ہر مرتبہ سانس خارج کرتے وقت ہم فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑتے ہیں، جسے مچھر اپنے اینٹینا پر موجود نہایت حساس ریسیپٹرز کی مدد سے کئی میٹر دور سے محسوس کر لیتا ہے۔ یہی اس کے لیے پہلا اشارہ ہوتا ہے کہ قریب ہی کوئی انسان موجود ہے۔ اس کے بعد وہ مزید معلومات حاصل کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنے ممکنہ شکار کی طرف بڑھتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض افراد دوسروں کی نسبت زیادہ مچھر اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ بالغ افراد بچوں کے مقابلے میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔ جن لوگوں کا میٹابولزم تیز ہوتا ہے، ان کی سانس بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ حاملہ خواتین میں بھی جسمانی تبدیلیوں کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح ورزش کے دوران سانس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے، جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور پسینہ زیادہ آنے لگتا ہے۔ یہ تمام عوامل مچھروں کے لیے ایسے اشارے بن جاتے ہیں جو انہیں اپنے شکار تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی لیے دوڑنے والے افراد، کھلاڑی اور کھلی فضا میں کام کرنے والے لوگ نسبتاً زیادہ مچھر کے کاٹنے کا شکار بنتے ہیں۔
لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ اس پوری کہانی کا صرف آغاز ہے۔ جدید تحقیق کی سب سے حیران کن دریافت یہ ہے کہ ہر انسان کے جسم کی اپنی ایک منفرد کیمیائی شناخت ہوتی ہے۔ ہماری جلد سے مسلسل سیکڑوں مختلف کیمیائی مرکبات خارج ہوتے رہتے ہیں۔ یہ مرکبات پسینے، جلد کی قدرتی چکنائی، مردہ جلدی خلیوں اور جلد پر موجود اربوں مفید بیکٹیریا کے باہمی تعامل سے بنتے ہیں۔ ان سب کا مجموعہ ایک ایسی منفرد جسمانی خوشبو پیدا کرتا ہے جو ہر انسان میں مختلف ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہر شخص کے فنگر پرنٹس مختلف ہوتے ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کاربوکسیلک ایسڈز (Carboxylic Acids) نامی قدرتی مرکبات مچھروں کے لیے خاص طور پر پرکشش ہوتے ہیں۔ جن افراد کی جلد پر ان مرکبات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، وہ ڈینگی، چکن گونیا، زیکا وائرس اور زرد بخار پھیلانے والے مچھروں کے لیے زیادہ کشش رکھتے ہیں۔ گویا مچھر ہمارے خون کا ذائقہ نہیں بلکہ ہمارے جسم کے گرد موجود اس پوشیدہ کیمیائی "خوشبو” کو محسوس کر کے اپنا شکار منتخب کرتے ہیں۔
اس دلچسپ تحقیق کا ایک اور اہم پہلو ہماری جلد پر موجود مائیکرو بایوم ہے۔ ہماری جلد پر اربوں مفید بیکٹیریا رہتے ہیں جو پسینے اور جلد کی چکنائی کو مختلف کیمیائی مرکبات میں تبدیل کرتے ہیں۔ یہی مرکبات ہر انسان کی منفرد جسمانی خوشبو بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے، ایک جیسا کھانا کھانے اور ایک ہی صابن استعمال کرنے والے دو افراد میں سے ایک کو مچھر بار بار کاٹتے ہیں جبکہ دوسرا تقریباً محفوظ رہتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جلد پر موجود بیکٹیریا کی ساخت اس فرق کی سب سے مضبوط وجوہات میں سے ایک ہے۔
اس سارے عمل میں جینیات بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں بچپن ہی سے مچھر زیادہ کاٹتے ہیں، اور سائنسی تحقیق ان کے اس مشاہدے کی تائید کرتی ہے۔ ہمارے جینز اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ ہماری جلد کتنی چکنائی پیدا کرے گی، پسینے کی نوعیت کیا ہوگی، مدافعتی نظام کس طرح کام کرے گا اور جلد پر کس قسم کے بیکٹیریا زیادہ موجود ہوں گے۔ یہ تمام عوامل مل کر وہ کیمیائی سگنلز پیدا کرتے ہیں جن کی بنیاد پر مچھر اپنا شکار منتخب کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مچھر کا زیادہ کاٹنا کسی حد تک وراثت میں بھی مل سکتا ہے۔
اکثر لوگ خون کے گروپ کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ بعض پرانی تحقیقات میں یہ مشاہدہ سامنے آیا تھا کہ بلڈ گروپ O رکھنے والے افراد کو نسبتاً زیادہ مچھر کاٹتے ہیں، جبکہ A اور B گروپ رکھنے والوں میں یہ رجحان کچھ کم دیکھا گیا۔ تاہم حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ خون کا گروپ معمولی کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن اصل فیصلہ ہمارے جسم کی مجموعی کیمیائی خوشبو کرتی ہے، نہ کہ خون کی قسم۔
اسی طرح "میٹھے خون” کا تصور بھی سائنسی بنیادوں سے محروم ہے۔ مچھر کاٹنے سے پہلے خون میں شوگر کی مقدار معلوم نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ اپنا فیصلہ جلد کو چھیدنے سے پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو صرف اس وجہ سے زیادہ مچھر کاٹتے ہیں کہ ان کے خون میں شوگر زیادہ ہوتی ہے، اس دعوے کی تائید میں کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
مچھر صرف سونگھنے کی حس پر انحصار نہیں کرتے۔ جب وہ اپنے شکار کے قریب پہنچتے ہیں تو جسم کی حرارت، جلد کا درجہ حرارت، نمی، پانی کے بخارات، لیکٹک ایسڈ، امونیا اور پسینے میں موجود دیگر کیمیائی مرکبات بھی ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ دیکھنے کی صلاحیت بھی استعمال کرتے ہیں۔ جدید تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ محسوس کرنے کے بعد مچھر خاص طور پر سیاہ، گہرے نیلے، سرخ اور نارنجی رنگ کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں، جبکہ سفید، ہلکے سرمئی اور ہلکے رنگوں کی طرف ان کی کشش نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اگرچہ صرف کپڑوں کا رنگ مچھر سے مکمل حفاظت نہیں کر سکتا، لیکن ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے سے خطرہ کسی حد تک کم ہو سکتا ہے۔
بازار میں مچھر بھگانے کے بے شمار دعوے کیے جاتے ہیں۔ لہسن کھانے، وٹامن بی استعمال کرنے، الٹراسونک آلات یا موبائل فون ایپس کو مؤثر حل قرار دیا جاتا ہے، لیکن سائنسی تحقیق نے ان میں سے اکثر دعووں کی تصدیق نہیں کی۔ اس کے برعکس ماہرین اب بھی انہی طریقوں کو مؤثر قرار دیتے ہیں جن کی افادیت تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے، مثلاً DEET، پیکارڈن (Picaridin) یا آئل آف لیمن یوکلپٹس پر مشتمل ریپیلنٹس کا استعمال، مکمل آستین والے ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا، کھڑکیوں پر جالیاں لگانا، مچھر دانی استعمال کرنا، گھروں کے اردگرد کھڑا پانی ختم کرنا اور پنکھے کا استعمال، کیونکہ مچھر تیز ہوا میں آسانی سے پرواز نہیں کر سکتے۔
پاکستان جیسے ممالک میں یہ موضوع صرف دلچسپی کا نہیں بلکہ صحتِ عامہ کا اہم مسئلہ بھی ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں ڈینگی بخار، چکن گونیا اور بعض علاقوں میں ملیریا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بے ہنگم شہری آبادی، ناقص نکاسیٔ آب اور گھروں کے اردگرد جمع پانی مچھروں کی افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے اگرچہ ہم اپنی جینیات یا جسمانی کیمسٹری کو تبدیل نہیں کر سکتے، لیکن اپنے ماحول کو صاف رکھ کر اور سائنسی طور پر ثابت شدہ حفاظتی تدابیر اختیار کر کے ان بیماریوں کے خطرے کو نمایاں حد تک کم ضرور کر سکتے ہیں۔
جدید تحقیق کا سب سے دلچسپ اور شاید سب سے تسلی بخش نتیجہ یہی ہے کہ اگر آپ کو دوسروں کی نسبت زیادہ مچھر کاٹتے ہیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔ اس کا تعلق زیادہ تر آپ کی قدرتی حیاتیاتی ساخت سے ہے؛ آپ کی سانس، آپ کی جلد کی کیمسٹری، آپ کے جینز، جسمانی حرارت اور جلد پر موجود بے ضرر جرثوموں سے۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی یہ کہے کہ "تمہارا خون بڑا میٹھا ہے” تو مسکرا کر اسے بتائیے کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ مچھر ہمارے خون کا ذائقہ نہیں، بلکہ ہمارے جسم کی اس پوشیدہ کیمیائی زبان کو پڑھتے ہیں جو ہر انسان میں منفرد ہوتی ہے، اور یہی زبان طے کرتی ہے کہ ان کا اگلا شکار کون ہوگا۔


