Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    گلو شاہ میلہ: تاریخ، اہمیت اور موجودہ صورتِ حال

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp
    تحریر محمد اشفاق پسرور 

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    گلو شاہ میلہ برصغیر کے قدیم اور معروف مویشی میلوں میں شمار ہوتا تھا، جو موجودہ ضلع سیالکوٹ کی *تحصیل ڈسکہ* کے گاؤں *کوریکے* میں حضرت گلو شاہ کے مزار کے قریب منعقد ہوتا ہے۔ برطانوی دور میں یہ گاؤں *تحصیل پسرور* کا حصہ تھا، جیسا کہ *ضلع سیالکوٹ گزٹیئر (1883–84ء)* اور *ضلع سیالکوٹ گزٹیئر (1894–95ء)* سے ثابت ہوتا ہے۔ بعد ازاں انتظامی حدود میں تبدیلیوں کے نتیجے میں کوریکے تحصیل ڈسکہ میں شامل ہو گیا، تاہم دستیاب سرکاری ریکارڈ میں اس منتقلی کا درست سال واضح طور پر درج نہیں ملتا۔
    گلو شاہ میلہ بنیادی طور پر مویشیوں کی خرید و فروخت کا ایک بڑا مرکز تھا، جہاں پنجاب اور برصغیر کے مختلف علاقوں سے تاجر، کسان اور مویشی پالنے والے جمع ہوتے تھے۔ یہ صرف ایک تجارتی اجتماع نہیں بلکہ دیہی زندگی، مقامی ثقافت اور سماجی روابط کا بھی اہم مظہر تھا۔
    *ضلع سیالکوٹ گزٹیئر (1883–84ء)* میں اس میلے کا ذکر ایک پہلے سے قائم سالانہ مویشی میلے کے طور پر کیا گیا ہے۔ گزٹیئر کے مطابق ہر سال تقریباً *60 سے 70 ہزار افراد* اس میلے میں شریک ہوتے تھے، جبکہ *8 ہزار سے 10 ہزار* مویشی خرید و فروخت کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر تک گلو شاہ میلہ نہ صرف ضلع سیالکوٹ بلکہ پورے خطے کی زرعی معیشت اور مویشیوں کی تجارت کا ایک نمایاں مرکز بن چکا تھا۔
    بعد ازاں *ضلع سیالکوٹ گزٹیئر (1894–95ء)* میں بھی اس میلے کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ گزٹیئر کے مطابق جب *1889ء* میں سیالکوٹ شہر میں سالانہ *Horse and Cattle Show* کا آغاز کیا گیا تو ابتدا میں یہ اکتوبر میں منعقد ہوتا تھا، مگر اس کی تاریخ کوریکے کے مشہور گلو شاہ مویشی میلے سے متصادم ہو جاتی تھی۔ چنانچہ انتظامیہ نے سیالکوٹ کے نئے میلے کی تاریخ تبدیل کرکے مارچ مقرر کر دی۔ یہ تاریخی واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس دور میں گلو شاہ میلہ پنجاب کے ممتاز اور بااثر مویشی میلوں میں شمار ہوتا تھا۔
    اگرچہ تاریخی ریکارڈ میں گلو شاہ میلے کے اولین انعقاد کا سال درج نہیں، لیکن دستیاب شواہد سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ میلہ حضرت گلو شاہ کے مزار سے وابستہ ایک مقامی روایت کے طور پر شروع ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک عظیم تجارتی، سماجی اور ثقافتی اجتماع کی صورت اختیار کر گیا۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی دور کے سرکاری گزٹیئرز میں بھی اس کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔
    آج بھی گلو شاہ میلہ اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہر سال منعقد ہوتا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کی وہ تاریخی رونق، تجارتی اہمیت اور ثقافتی رنگ باقی نہیں رہے جو ایک صدی قبل اس کی پہچان تھے۔ جہاں کبھی ہزاروں مویشیوں کی خرید و فروخت ہوتی تھی، دور دراز علاقوں سے تاجر آتے تھے اور دیہی ثقافت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی تھی، وہاں اب میلہ محدود پیمانے پر منعقد ہوتا ہے اور اس میں وہ سرگرمیاں دکھائی نہیں دیتیں جو اس کی تاریخی شناخت کا حصہ تھیں۔
    اس تاریخی زوال کی ایک بڑی وجہ حکومتی سرپرستی کا فقدان، جدید تجارتی نظام، مویشی منڈیوں کے بدلتے ہوئے رجحانات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ پر ناکافی توجہ ہے۔ اگر اس میلے کو اس کی اصل روح کے مطابق دوبارہ زندہ کرنا ہے تو اسے محض ایک مقامی روایت کے بجائے *پنجاب کے ثقافتی ورثے* کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ، محکمہ لائیو اسٹاک، محکمہ سیاحت اور محکمہ آثارِ قدیمہ و ثقافت باہمی تعاون سے گلو شاہ میلے کی بحالی کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دیں۔ میلے کے انعقاد کو سرکاری نگرانی میں منظم کیا جائے، فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے، مویشیوں کی جدید نمائش، زرعی و لائیو اسٹاک نمائش، گھڑ دوڑ، نیزہ بازی، روایتی کھیل، دستکاری کی نمائش، لوک موسیقی، مقامی کھانوں کے اسٹالز اور خاندانی تفریحی سرگرمیوں کو اس کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے مویشی پالنے والوں اور بریڈرز کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ یہ میلہ دوبارہ اپنی تاریخی اہمیت حاصل کر سکے۔
    اگر حکومت اس تاریخی میلے کو اپنی سرپرستی میں لے کر باقاعدہ سالانہ ثقافتی کیلنڈر کا حصہ بنا دے تو نہ صرف ایک عظیم تاریخی روایت محفوظ ہوگی بلکہ مقامی معیشت کو بھی نئی زندگی ملے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، دیہی ثقافت کو فروغ ملے گا اور ملکی و غیر ملکی سیاحت میں بھی اضافہ ہوگا۔
    گلو شاہ میلہ صرف ایک سالانہ تقریب نہیں بلکہ خطۂ سیالکوٹ، پسرور اور ڈسکہ کی مشترکہ تاریخی، معاشی اور ثقافتی شناخت کا امین ہے۔ اس کی بحالی درحقیقت ہماری تاریخ، ہماری تہذیب اور ہماری دیہی روایات کے تحفظ کی بحالی ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو یہ میلہ ایک مرتبہ پھر پنجاب کے نمایاں ثقافتی میلوں میں اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت حاصل کر سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے اپنی تاریخی اہمیت برقرار رکھ سکتا ہے۔

    Related Posts

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.