تہران / واشنگٹن:ایران اور امریکا کے درمیان محاذ آرائی ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے "آپریشن نصر 2” کی تیسری لہر کے تحت بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے ایران کے ساحلی شہروں پر ہونے والی امریکی بمباری کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
🇮🇷 🇰🇼 Footage shared on social media showing what appears to be an Iranian attack drone (Shahed-136) hitting a site in Kuwait, as Washington and Tehran continue to trade blows in the latest clash over Hormuz pic.twitter.com/5VEWv624wR
— Shogri (@shogri786) July 15, 2026
پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ایرانی بحریہ اور ایرو اسپیس فورسز نے بحرین میں واقع ‘شیخ عیسیٰ ایئر بیس’ پر موجود امریکی ہتھیاروں کے ذخائر، طیاروں کے پرزوں اور بحری آلات کے شیڈز کو تباہ کر دیا ہے۔ اسی طرح، کویت کے ‘علی السالم ایئر بیس’ پر موجود امریکی ‘ایم کیو-9’ ڈرونز کے لانچنگ ریمپ کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی ڈرونز تباہ اور دیگر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو انہیں مزید "حیران کن” جوابی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
📹 Eighth phase of Operation Thunder — continued drone strikes by the Iranian Army on U.S. bases in Jordan.
Army Public Relations:
For the second time, F-18 fighter jet positions and large equipment hangars of the U.S. terrorist army at Al-Azraq Base in Jordan have been targeted… pic.twitter.com/5gU39YgdRW— IRGC (@IRGC_Press) July 15, 2026
کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ہی ایران نے دو ٹوک الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ جب تک خطے میں امریکی اثر و رسوخ موجود ہے، یہاں سے تیل یا گیس کا ایک قطرہ بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس بیان نے عالمی منڈی میں توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ ان کی افواج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے جنوبی ساحل پر بوشہر، چاہ بہار، بندر عباس اور ابو موسیٰ سمیت متعدد مقامات پر ایرانی میزائل اور ڈرون انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔
صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی فوج نے ایک بار پھر ایرانی بندرگاہوں پر مکمل بحری ناکہ بندی نافذ کر دی ہے، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ امریکا نے اپریل میں یہ ناکہ بندی کی تھی جسے جون میں عبوری معاہدے کے بعد اٹھا لیا گیا تھا، لیکن حالیہ حملوں کے بعد حالات دوبارہ جنگ سے قبل والی نہج پر آ گئے ہیں۔
اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ پر ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اڈوں پر براہِ راست حملوں نے اس تنازع کو ایک "مکمل جنگ” میں تبدیل کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے مسلسل جوابی کارروائیوں نے سفارتی حل کے امکانات کو انتہائی محدود کر دیا ہے، جس سے پورے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
U.S. Sailors conduct flight operations aboard USS George H.W. Bush (CVN 77). pic.twitter.com/WLx1hxvd6l
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 14, 2026
امریکا گزشتہ چار دنوں سے آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی ساحل پر مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے، جس میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، ریڈارز، اینٹی شپ میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جواب میں ایران کی جانب سے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ منگل کی سہ پہر سے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق، ایران نے کمرشل جہازوں پر حملے کرکے شہریوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد اب امریکا نے سخت جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز اور سینکڑوں فوجی طیارے تعینات ہیں اور امریکی افواج ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘

