گزشتہ پانچ ماہ سے ہوشیارپور، پٹھان کوٹ، جالندھر، روپڑ، موگا، بٹالہ، نوان شہر اور کپورتھلہ سے مسلسل نمونے جی ایم سی جموں پہنچ رہے ہیں۔
گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں کی این اے بی ایل سے منظور شدہ مائیکرو بایولوجی لیبارٹری اب صرف جموں و کشمیر ہی نہیں، بلکہ پنجاب کے ’ایچ آئی وی‘ جانچ نیٹ ورک کا بھی ایک اہم مرکز بن گئی ہے۔ پنجاب کے 8 اضلاع سے ہر ماہ تقریباً 2500 ایچ آئی وی جانچ کے نمونے یہاں بھیجے جا رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ ماہ سے ہوشیارپور، پٹھان کوٹ، جالندھر، روپڑ، موگا، بٹالہ، نوان شہر اور کپورتھلہ سے مسلسل نمونے جی ایم سی جموں پہنچ رہے ہیں۔ جہاں نمونے کی جانچ کے بعد رپورٹ متعلقہ اضلاع کو بھیجی جا رہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب آہستہ آہستہ ایچ آئی وی کا ہاٹ اسپاٹ بنتا جا رہا ہے۔ جی ایم سی جموں کی مائیکرو بایولوجی لیبارٹری کو اسی سال فروری میں ’نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز‘ (این اے بی ایل) کی منظوری ملی تھی۔ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کے بعد یہ جموں و کشمیر کی پہلی این اے بی ایل سے منظور شدہ وائرولوجی لیبارٹری بن گئی۔
منظوری ملنے کے بعد لیبارٹری کی جانچ کی صلاحیت اور اس کی معتبریت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب کے کئی اضلاع کے ایچ آئی وی ٹیسٹوں کی ذمہ داری بھی اسی لیبارٹری کو سونپ دی گئی ہے۔ جانچ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ایچ آئی وی انفیکشن کے معاملوں میں مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ افراد میں بڑی تعداد 25 سے 30 سال عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں خواتین اور بچوں میں بھی انفیکشن کے معاملے سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے کی عادت انفیکشن کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔ مریضوں کا علاج پنجاب میں ہی کیا جا رہا ہے، جبکہ جی ایم سی جموں میں صرف نمونوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔
مائیکرو بایولوجی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر سندیپ ڈوگرا نے بتایا کہ جی ایم سی جموں کی لیبارٹری جموں و کشمیر کی پہلی این اے بی ایل سے منظور شدہ وائرولوجی لیبارٹری ہے۔ یہاں وائرس سے پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ ماہ سے پنجاب کے ہوشیارپور، پٹھان کوٹ، جالندھر، روپڑ، کپورتھلہ، بٹالہ، موگا اور نوان شہر سے ہر ماہ تقریباً 2500 ایچ آئی وی جانچ کے نمونے یہاں بھیجے جا رہے ہیں۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد رپورٹ متعلقہ اضلاع کو ارسال کر دی جاتی ہے۔ این اے بی ایل کو منظوری ملنے کے بعد جی ایم سی جموں کی جانچ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے جہاں یومیہ تقریباً 90 نمونوں کی جانچ ہوتی تھی، وہیں اب جدید تکنیک کی مدد سے 24 گھنٹوں میں تقریباً 1200 سے زیادہ نمونوں کی جانچ ممکن ہو گئی ہے۔ شعبے کے سربراہ کے مطابق مستقبل میں نئی مشینیں ملنے کے بعد لیب کی صلاحیت اور بڑھے گی، جس سے جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں کے نمونوں کی جانچ میں بھی تیزی آئے گی۔

