اوٹاوا: کینیڈا میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم (Hate Crimes) پر قابو پانے کے لیے حکومت کا پیش کردہ متنازعہ مگر اہم بل ‘کامبیٹنگ ہیٹ ایکٹ’ (بل سی-9) پارلیمنٹ سے منظوری اور رائل ایسنٹ (شاہی توثیق) ملنے کے بعد قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ نیا قانون رواں سال 18 جولائی 2026 سے کینیڈا بھر میں نافذ العمل ہو جائے گا۔
قانون کے اہم نکات
حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں مذہبی مقامات پر حملوں اور نفرت انگیز بیانات میں اضافے کے پیش نظر یہ قانون ناگزیر تھا۔ نئے قانون کے تحت:
سنگین جرم: اگر کسی بھی جرم (جیسے ہراساں کرنا، دھمکانا یا نقصان پہنچانا) کے پیچھے مذہب، نسل، رنگ، جنس یا شناخت کی بنیاد پر نفرت کا عنصر پایا گیا، تو اسے ‘سنگین جرم’ تصور کیا جائے گا جس کی سزا معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
مذہبی مقامات کا تحفظ: مساجد، مندروں، کلیساؤں، اسکولوں اور کمیونٹی مراکز کو نشانہ بنانا یا وہاں جانے والوں کو روکنا اب براہِ راست قانونی گرفت میں آئے گا۔
نفرت انگیز علامات پر پابندی: نفرت یا دہشت گردی سے منسلک جھنڈوں یا علامات کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی ہے، بشرطیکہ ان کا مقصد معاشرے میں منافرت پھیلانا ہو۔
مذہبی جواز کا خاتمہ: اس قانون کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ اب ملزمان اپنی نفرت انگیز تقاریر یا حرکات کا دفاع مذہبی کتابوں یا عقیدے کے نام پر نہیں کر سکیں گے، جس کے بعد قانونی استثنیٰ کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے۔
حقوق انسانی تنظیموں کے تحفظات
اگرچہ حکومت اسے عوامی سیکیورٹی کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دے رہی ہے، تاہم 60 سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرینِ قانون نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ:
قانون کے اصول مبہم ہیں جن کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ قانون پرامن مظاہروں اور اظہارِ رائے کی آزادی کو متاثر کر سکتا ہے۔
مذہبی مباحث یا تعبیرات کو غلط فہمی کی بنا پر جرم قرار دیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔
حکومت کا ردعمل
دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پولیس کو اب مذہبی مقامات اور اقلیتی طبقات کے تحفظ کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ قانونی طاقت حاصل ہوگی۔ حکومت کے مطابق، اس قانون کا بنیادی مقصد کینیڈا کو ایک ایسا محفوظ معاشرہ بنانا ہے جہاں ہر شہری بلا تفریقِ مذہب و نسل پرسکون زندگی گزار سکے۔
اب تمام تر نظریں 18 جولائی پر مرکوز ہیں، جب پولیس اور عدالتیں اس قانون کے تحت اپنی کارروائیوں کا آغاز کریں گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا اصل امتحان اس کے عملی نفاذ کے دوران سامنے آئے گا کہ حکومت کس طرح قانون کے اطلاق اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن برقرار رکھتی ہے۔

