Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      برصغیر میں ہوابازی کی تاریخ کا سنہری دن: کراچی اور ممبئی کے درمیان پہلی پرواز کو 94 سال بیت گئے

      جرمن پولیس کی کارروائی: 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزام میں روبوٹ تحویل میں

      ایپل کا نیا ہوم پوڈ منی 2 متعارف، سری اے آئی اور جدید فیچرز شامل

      مصنوعی ذہانت امریکا میں ایک کروڑ 10 لاکھ ملازمتیں کھا جائے گی، میکنسی رپورٹ جاری

      آواز سے دوگنی رفتار والا طیارہ، سفر کا وقت 70 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ’’پاکستانی کینیڈینز ہوشیار‘‘ ! کینیڈا میں ‘کامبیٹنگ ہیٹ ایکٹ’ منظور: نفرت انگیز جرائم کے خلاف نیا قانون 18 جولائی سے نافذ العمل

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اوٹاوا: کینیڈا میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم (Hate Crimes) پر قابو پانے کے لیے حکومت کا پیش کردہ متنازعہ مگر اہم بل ‘کامبیٹنگ ہیٹ ایکٹ’ (بل سی-9) پارلیمنٹ سے منظوری اور رائل ایسنٹ (شاہی توثیق) ملنے کے بعد قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ نیا قانون رواں سال 18 جولائی 2026 سے کینیڈا بھر میں نافذ العمل ہو جائے گا۔

    قانون کے اہم نکات
    حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں مذہبی مقامات پر حملوں اور نفرت انگیز بیانات میں اضافے کے پیش نظر یہ قانون ناگزیر تھا۔ نئے قانون کے تحت:
    سنگین جرم: اگر کسی بھی جرم (جیسے ہراساں کرنا، دھمکانا یا نقصان پہنچانا) کے پیچھے مذہب، نسل، رنگ، جنس یا شناخت کی بنیاد پر نفرت کا عنصر پایا گیا، تو اسے ‘سنگین جرم’ تصور کیا جائے گا جس کی سزا معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
    مذہبی مقامات کا تحفظ: مساجد، مندروں، کلیساؤں، اسکولوں اور کمیونٹی مراکز کو نشانہ بنانا یا وہاں جانے والوں کو روکنا اب براہِ راست قانونی گرفت میں آئے گا۔
    نفرت انگیز علامات پر پابندی: نفرت یا دہشت گردی سے منسلک جھنڈوں یا علامات کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی ہے، بشرطیکہ ان کا مقصد معاشرے میں منافرت پھیلانا ہو۔
    مذہبی جواز کا خاتمہ: اس قانون کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ اب ملزمان اپنی نفرت انگیز تقاریر یا حرکات کا دفاع مذہبی کتابوں یا عقیدے کے نام پر نہیں کر سکیں گے، جس کے بعد قانونی استثنیٰ کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے۔

    حقوق انسانی تنظیموں کے تحفظات
    اگرچہ حکومت اسے عوامی سیکیورٹی کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دے رہی ہے، تاہم 60 سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرینِ قانون نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ:
    قانون کے اصول مبہم ہیں جن کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
    یہ قانون پرامن مظاہروں اور اظہارِ رائے کی آزادی کو متاثر کر سکتا ہے۔
    مذہبی مباحث یا تعبیرات کو غلط فہمی کی بنا پر جرم قرار دیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔

    حکومت کا ردعمل
    دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پولیس کو اب مذہبی مقامات اور اقلیتی طبقات کے تحفظ کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ قانونی طاقت حاصل ہوگی۔ حکومت کے مطابق، اس قانون کا بنیادی مقصد کینیڈا کو ایک ایسا محفوظ معاشرہ بنانا ہے جہاں ہر شہری بلا تفریقِ مذہب و نسل پرسکون زندگی گزار سکے۔

    اب تمام تر نظریں 18 جولائی پر مرکوز ہیں، جب پولیس اور عدالتیں اس قانون کے تحت اپنی کارروائیوں کا آغاز کریں گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا اصل امتحان اس کے عملی نفاذ کے دوران سامنے آئے گا کہ حکومت کس طرح قانون کے اطلاق اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن برقرار رکھتی ہے۔

     

    Related Posts

    یمن: صدارتی محل پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق

    ڈپٹی کمشنر ٹنڈو الہیار کا مختلف علاقوں میں آر او پلانٹس کا دورہ

    ڈسکہ میں ٹریفک حادثہ، دو کمسن بہنیں جاں بحق

    مقبول خبریں

    یمن: صدارتی محل پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق

    ڈسکہ میں ٹریفک حادثہ، دو کمسن بہنیں جاں بحق

    چونڈہ روڈ پر ٹریفک حادثہ، 15 سالہ لڑکا جاں بحق

    صوبائی مشیر صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا دورہ، زخمیوں کی عیادت اور طبی سہولیات کا جائزہ

    گورنر خیبرپختونخوا کا دیر کالونی سانحہ کے شہداء کے بچوں کیلئے 10، 10 لاکھ اور زخمیوں کیلئے 2 لاکھ روپے کا اعلان

    بلاگ

    ہائی ویز پر تیز ایل ای ڈی لائٹس؛ روشنی یا موت کا سامان؟

    ہماری خاموشی اور معاشرے میں دن بدن پروان چڑھتی ہوئی نا انصافی

    ​”ناکامی کا ذمہ دار کون۔۔۔؟” میاں حبیب کا کالم

    آئین کی بالادستی، سیاسی رواداری اور مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں

    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: ادب، قلم اور فکری شعور کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.