لاہور: پنجاب حکومت نے جدید دور کے بڑھتے ہوئے جرائم، خاص طور پر آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل بدعنوانی کو روکنے کے لیے ایک اہم قانونی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ مجوزہ "پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر ایکٹ 2026” کا مقصد دہائیوں پرانے ‘کنٹرول آف گونڈز ایکٹ’ کی جگہ ایک جدید قانونی ڈھانچہ وضع کرنا ہے۔
حکومت کے مطابق، یہ نیا قانون خاص طور پر ان جدید جرائم کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جن کا پرانے قوانین میں کوئی ذکر نہیں تھا۔ اس قانون کے تحت مندرجہ ذیل جرائم ناقابلِ معافی اور قابلِ سزا ہوں گے:
کسی کی خفیہ ویڈیوز یا تصاویر بنانا۔
اسٹاکنگ (پیچھا کرنا) اور سائبر بلنگ۔
آن لائن بلیک میلنگ اور ڈیجیٹل بھتہ خوری۔
ایسا رویہ جو معاشرے میں خوف یا بدامنی پھیلائے۔
انتظامی اختیارات اور کڑی نگرانی
نئے مسودے کے مطابق، ضلعی سطح پر ‘ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹیاں’ قائم کی جائیں گی، جنہیں کسی بھی شخص کو "عادی مجرم” (Habitual Offender) قرار دینے کی سفارش کرنے کا اختیار ہوگا۔ ایک بار عادی مجرم قرار دیے جانے کے بعد انتظامیہ درج ذیل سخت اقدامات کر سکے گی:
مشتبہ افراد کو ‘نو فلائی لسٹ’ میں ڈالنا اور پاسپورٹ ضبط کرنا۔
بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا اور اسلحہ لائسنس منسوخ کرنا۔
مخصوص افراد کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی۔
مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کی جائیداد ضبط کرنا (جو عدالتی جانچ پڑتال سے مشروط ہوگی)۔
قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس میں دفاع اور اپیل کا مکمل حق دیا گیا ہے۔ قانون کے تحت کسی بھی کارروائی کے خلاف اپیل سننے کے لیے ایک ‘اپیلٹ ٹریبونل’ تشکیل دیا جائے گا، جس کی سربراہی ایک ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج کریں گے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ پرانے قوانین موجودہ ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے کے لیے غیر موثر ہو چکے تھے، اس لیے اس جدید قانونی فریم ورک کا مقصد معاشرے میں امن و امان قائم کرنا اور شہریوں، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کو آن لائن ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

