بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز نیٹورک)
بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ رکن صوبائی اسمبلی سابق صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ پارلیمان کے منتخب نمائندوں کی بجائے بجٹ کو ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے خرچ کرنے کے فیصلے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان غیر قانونی اقدامات کے خلاف میں نے بجٹ اجلاس سے واک آئوٹ کیا جس کا مقصد پارلیمان جوکہ قانون ساز ادارہ ہے یہاں پر قانون سازی کی جاتی ہے اور یہاں پر بیٹھے تمام منتخب عوامی نمائندے ہیں جن کے ذریعے قانونی طور پر فنڈز اور منصوبے عوام کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھ کر بلوچستان کی پسماندگی اور عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کو دور کرنے کے لئے بروئے کار لانے چاہئیں نہ کہ غیر منتخب نمائندوں اور اپنی مرضی سے انتظامی آفیسران کے توسط سے کس کی ایماء پر اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں یہ اقدام پارلیمان کی توہین ہے اور حکومت کو چاہئے کہ یہ پیسے آن گوئنگ اسکیموں کو مکمل کرنے کے لئے بروئے کار لائیں تاکہ جاری اسکیموں کو فوری طور پر مکمل کرکے ان کے ثمرات عوام تک منتقل ہوسکیں ہم نے ہمیشہ عوام کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کی بات کی ہے لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی اس لئے میں نے ایوان سے واک آئوٹ کیا اور اس سے قبل بھی بجٹ کو مسترد کیا تھا کیونکہ اس میں عوامی نمائندوں اور عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مد نظر رکھنے کی بجائے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے پیسوں کے ضیاع کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے خلاف ہم آواز بلند کرتے رہیں گے۔

