برگن اسٹاک،سوئٹزرلینڈ: امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی کر رہے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات میں ایران کے بارہ ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔ یہ اثاثے امریکہ اور عالمی برادری کی طرف سے اسلامی جمہوریہ پر برسوں کی پابندیوں، بینکنگ پابندیوں اور قانونی تنازعات کی وجہ سے ناقابل رسائی ہو گئے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کے تصادم یا کشیدگی سے بچنے کے مقصد سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر رابطے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف اور وزیر خارجہ عراقچی آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت کے لیے عمان میں ہیں۔
وہیں، امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے عبوری معاہدے کے تحت ایرانی تیل کے خلاف پابندیوں میں 60 دن کی چھوٹ دینے کا لائسنس جاری کر دیا ہے۔ ایرانی تیل پر پابندیوں کو عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے۔ امریکی لائسنس ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دیتا ہے۔ یہ لائسنس دو مہینوں تک یعنی 21 اگست تک کارآمد رہے گا۔
امریکی وزارت خزانہ نے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ کو 21 اگست تک خام تیل اور متعلقہ مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل کی اجازت دینے کے لیے ایران پر سے پابندیاں عارضی طور پر ہٹا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ ابتدائی بات چیت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وینس نے کہا، "حتمی معاہدہ نزدیک ہے، ہم نے بنیاد رکھ دی ہے، ہم نے امریکی عوام کے لیے سازگار مقام تک پہنچنے کے لیے ایک کامیاب بنیاد رکھی ہے۔”
ایران نے لبنان میں لڑائی کو ختم کرنے کی طرف "اہم پیش رفت” کا ذکر کرتے ہوئے اسے مذاکرات کا پہلا حقیقی امتحان قرار دیا۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ جاری تکنیکی مذاکرات میں فریقوں نے جوہری مسائل اور پابندیوں سے نمٹنے کے لیے ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (IRNA) نے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مذاکرات کاروں نے چار ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ کیا جس میں ’پابندیوں میں نرمی، جوہری معاملات، اقتصادی تعمیر نو اور مانیٹرنگ اور نفاذ‘ شامل ہیں۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق یہ ورکنگ گروپس معاہدے کی تکنیکی تفصیلات پر عملدرآمد اور مختلف شعبوں میں جاری مذاکرات کے ذمہ دار ہوں گے۔
ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کا اجرا، ایرانی تیل کی فروخت سے بھی پابندی اٹھالی گئی

