لاہور:وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھنے کے لیے کچھ بھی نہیں، اسی لیے ان کی تقاریر لیڈر سے شروع ہو کر لیڈر پر ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ میں 189 منصوبوں کے لیے فی منصوبہ صرف 1 لاکھ روپے جبکہ 177 منصوبوں کے لیے محض 10 ہزار روپے مختص کیے ہیں، جو ترقیاتی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔تبدیلی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود خیبرپختونخوا میں عوام آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور بعض علاقوں میں لوگ آج بھی ڈولیوں کے ذریعے دریا عبور کرنے پر مجبور ہیں۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ناممکن کو ممکن بنا کر دکھایا ہے اور آج پوری دنیا اور عالمی میڈیا ان کی قیادت اور کردار کا اعتراف کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک سید عاشق حسین کرمانی کے ہمراہ پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی حالات میں جس نوعیت کی کشیدہ صورتحال پیدا ہوئی، وہ کسی حد تک ایک ’’ورلڈ وائیڈ بحران‘‘ کی شکل اختیار کر گئی تھی، تاہم پاکستان کی قیادت نے دانشمندی، سفارتی حکمتِ عملی اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے خطے کو بڑے نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ معاہدات دیرپا ثابت ہوں گے اور اس کے نتیجے میں خطے سمیت پوری دنیا میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس وقت پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے، جو دراصل عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اپوزیشن بجٹ جیسے سنجیدہ معاملے پر بامقصد بحث کے بجائے سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور سیاسی نعرہ بازی تک محدود ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اپوزیشن کی تقاریر زیادہ تر’’سیاسی تاثر‘‘ اور ’’غیر ضروری جذباتی بیانیے‘‘پر مبنی ہوتی ہیں، جبکہ عوامی مسائل پر سنجیدہ بحث آخر میں چند منٹ تک محدود رہ جاتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ماضی میں اپوزیشن کی اپنی حکومتوں نے عوامی فلاح کے بڑے منصوبے شروع کیے ہوتے تو آج وہ ان کا ذکر ضرور کرتے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے کسان کارڈ، صحت، تعلیم، لائیو اسٹاک اور دیگر شعبوں میں نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں جو عوام کے لیے واضح بہتری کا باعث بن رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کے ’’ستھرا پنجاب پروگرام‘‘، تعلیمی وظائف، اور لیپ ٹاپ سکیم جیسے اقدامات بغیر کسی تفریق کے عوام کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میاں نواز شریف کا نام نوٹ پر ہونا ضروری نہیں، کیونکہ ان کا نام پاکستان کی تاریخ کے بڑے ترقیاتی منصوبوں، ایٹمی دھماکوں کے بعد قومی انفراسٹرکچر، موٹرویز اور مجموعی قومی ترقی کے ساتھ ہمیشہ جڑا رہے گا.یہ رائے کسی کی ذاتی محبت اور عقیدت کا اظہار ہو سکتی ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے بجٹ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی حکومت کا مکمل فوکس اپنے وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے روزمرہ ریونیو بڑھانے پر ہے۔ تمام ترقیاتی منصوبے اپنی بنیاد کے مطابق جاری ہیں اور کسی بھی اہم منصوبے پر کٹ لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔حکومت کو امید ہے کہ دسمبر تک ریونیو کی صورتحال مزید بہتر ہوگی اور صوبہ مالی طور پر زیادہ مستحکم پوزیشن میں ہوگا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اپوزیشن اب بھی پرانی اور غیر حقیقت پسندانہ حساب کتاب کے ساتھ سیاسی بیانیہ بنا رہی ہے، جبکہ حکومت کا وژن پورے پنجاب میں یکساں ترقی ہے۔ الیکٹرک بسوں، “اپنی چھت اپنا گھر” جیسے منصوبوں اور دیگر فلاحی پروگراموں کی تقسیم کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے صوبے میں جاری ہے۔ حکومت کے اقدامات کے نتائج واضح ہیں اور عوامی سطح پر انہیں پذیرائی مل رہی ہے، جبکہ بعض حلقے محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف ڈالر بنانے کی خاطر من گھڑت اور حقائق کے برعکس جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں۔ضروری ہے کہ گفتگو میں اخلاقیات اور ذمہ داری کو برقرار رکھا جائے، کیونکہ غیر تصدیق شدہ اور جذباتی بیانات معاشرتی انتشار کا سبب بنتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران رینجرز اور پاک فوج کے دستے تعینات کیے جا رہے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ یا دیگر سیکیورٹی اقدامات سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ فی الحال نہیں کیا گیا، جیسے ہی کوئی فیصلہ ہوگا عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی کارکردگی زیرو، تقاریر لیڈر سے شروع اور لیڈر پر ختم،نوازشریف کا نام قومی ترقی سے جڑا ہے نوٹ پر ضروری نہیں ، عظمیٰ بخاری

