شیخوپورہ(رپورٹ:اسامہ طفیل)
شیخوپورہ تھانہ صدر فاروق آباد کے علاقہ ڈیرہ ملیاں بشمولہ سچا سودا میں معمولی تلخ کلامی کے بعد 14 سالہ لڑکے کے قتل اور ایک نوجوان کے زخمی ہونے کے واقعہ میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف لواحقین نے ڈی پی او آفس شیخوپورہ کے باہر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور متعلقہ تھانے کے اہلکاروں کے خلاف نعرہ بازی کی مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث ایک معمولی جھگڑا سنگین دشمنی میں تبدیل ہوگیا، تاہم واقعہ کے آٹھ روز گزرنے کے باوجود مرکزی ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقدمہ میں نامزد تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔احتجاج کے دوران مقتول کے ورثا اور اہل علاقہ نے انصاف کے حق میں نعرے لگائے۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ بلال ظفر شیخ کی ہدایت پر پولیس حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی، جس پر احتجاج پرامن طور پر ختم کردیا گیا۔یاد رہے کہ مقدمہ کے مدعی لیاقت علی کے مطابق نامزد ملزمان امجد، لیاقت، صداقت، علی رضا، تحسین، شفیق، اقبال، تنویر احمد اور دیگر مسلح افراد نے ان کے گھر پر حملہ کرکے اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجہ میں ان کا 14 سالہ بیٹا رحمان علی جاں بحق جبکہ بھتیجا حسنین زخمی ہوگیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تفتیش جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

