اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شازا فاطمہ خواجہ کی جانب سے متعارف کرایا گیا ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ اس بل میں موجود شقوں نے نہ صرف ارکانِ سینیٹ بلکہ عوامی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اس کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی نجی جائیداد پر قبضہ کرنے کے وسیع اختیارات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
حیرانی کی بات تو یہ ہے قومی اسمبلی سے یہ سفاکانہ بل چپکے سے پاس بھی ہوچکا ہے۔اب سینٹ میں منظوری کے لیے بھیجا گیا تو آئی ٹی قائمہ کمیٹی میں سینٹرز ششدر رہ گئے کہ ایسا خطرناک بل کیسے اسمبلی نے پاس کر دیا؟
کیا اسمبلی کے 340 ارکان میں سے ایک نے بھی بل کے متن کو پڑھنے کی زحمت نہیں… https://t.co/AEbAQG4hlC
— Rauf Klasra (@KlasraRauf) June 17, 2026
سینئر صحافی روف کلاسرا کے مطابق حیران کن طور پر یہ بل قومی اسمبلی سے خاموشی کے ساتھ منظوری حاصل کر چکا ہے، جس کے بعد اب اسے سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ بل کے مندرجات کے مطابق:
ٹیلی کام کمپنیاں کسی بھی شہری کی ذاتی جائیداد، گھر، دکان یا پلاٹ کو صرف 30 دن کے نوٹس پر خالی کروا کر وہاں اپنے ٹاورز اور دیگر مشینری نصب کرنے کی مجاز ہوں گی۔
اگر کوئی شہری اپنی زمین یا جگہ دینے سے انکار کرتا ہے، تو اس پر 5 کروڑ روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
جب یہ بل سینیٹ کی آئی ٹی قائمہ کمیٹی میں پیش ہوا تو ارکانِ کمیٹی یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ قومی اسمبلی سے ایسا خطرناک اور "سفاکانہ” بل کیسے منظور ہو گیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ یہ آئین میں نجی ملکیت کے تحفظ کے بنیادی حق کے منافی ہے اور اس سے شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے سوال اٹھایا کہ کسی نجی کمپنی کو یہ اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی کے گھر یا دکان پر زبردستی قبضہ کر لے اور مزاحمت کرنے پر شہری کو ہی سزا دے۔
عوامی اور سیاسی حلقوں کا ردِعمل
اس بل کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید برہمی پائی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بل نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ یہ ایک "ریاست کے اندر ریاست” بنانے کے مترادف ہے جہاں نجی کمپنیوں کے مفادات کو عوامی حقوق پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس معاملے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بل کے متنازعہ پہلوؤں پر نظرِ ثانی کا عندیہ دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اس بل کو اسی شکل میں آگے بڑھاتی ہے یا عوامی دباؤ اور سینیٹرز کے شدید اعتراضات کے بعد اس میں کوئی اہم ترامیم کی جاتی ہیں۔

