بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
چین کے تعاون سے چلنے والی سیندک کان کو سکیورٹی خدشات کے باعث بندش کا خطرہ
بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی پاکستان کے معدنی وسائل سے متعلق عزائم کے لیے خطرہ بن گئی اسلام آباد (فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان میں چین کے تعاون سے چلنے والی سب سے بڑی فعال تانبہ اور سونے کی کان سیندک کاپر گولڈ پراجیکٹ نے خبردار کیا ہے کہ بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کے باعث اسے اپنی سرگرمیاں معطل کرنا پڑ سکتی ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق، سیندک میٹلز لمیٹڈ (SML) کے منیجنگ ڈائریکٹر نے 29 جون کو پاکستان کی وزارتِ توانائی کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ صوبے میں موجودہ امن و امان کی صورتحال نے منصوبے کے لیے ضروری سامان کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سیندک کاپر گولڈ پراجیکٹ کو مسلسل چلانا ممکن نہیں رہے گا، اور ضروری پیداواری سامان اور لاجسٹک سپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث آئندہ ایک ماہ کے اندر منصوبے کی سرگرمیاں بند ہونے کا سنگین خطرہ ہے۔
سیندک پاکستان کی سب سے بڑی فعال تانبہ اور سونے کی کان ہے، جسے 2001 میں پاکستان نے سرکاری چینی کمپنی میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا (MCC) کو لیز پر دیا تھا۔ یہ منصوبہ پاکستان کی سرکاری کمپنی سیندک میٹلز لمیٹڈ کے ساتھ مشترکہ شراکت داری کے تحت چلایا جا رہا ہے، جبکہ 2022 میں اس کی لیز مزید 15 برس کے لیے بڑھا دی گئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کی تقریباً 75 کروڑ ڈالر مالیت کی تانبے کی مصنوعات کی برآمدات میں زیادہ تر حصہ سیندک منصوبے سے حاصل ہونے والی پیداوار پر مشتمل تھا، جس کا تقریباً تمام حصہ چین برآمد کیا جاتا ہے۔چین پاکستان کا سب سے بڑا دوطرفہ قرض دہندہ بھی ہے اور اس نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کے تحت پاکستان میں سڑکوں، توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے اربوں ڈالر کے قرضے اور گرانٹس فراہم کی ہیں۔ان سرمایہ کاری منصوبوں کا بڑا حصہ بلوچستان میں ہے، جو رقبے کے لحاظ سے جرمنی کے برابر ایک وسیع صوبہ ہے اور حالیہ برسوں میں علیحدگی پسند شورش کا مرکز رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی میں کوئٹہ کے قریب ریلوے ٹریک کے پاس ہونے والے بم دھماکے میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ جنوری میں صوبے بھر میں ہونے والے مربوط حملوں میں تقریباً چار درجن افراد جان سے گئے تھے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سڑکوں کے ذریعے نقل و حمل ہے، جو حملوں کے باعث روز بروز زیادہ خطرناک بنتی جا رہی ہے۔
منصوبے سے وابستہ ایک عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ “اسلام آباد میں بہت سے لوگوں کو بلوچستان کی اصل صورتحال کا اندازہ نہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں میں، جہاں ریکوڈک اور سیندک جیسے بڑے منصوبے واقع ہیں، سکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں شورش کو بھارتی خفیہ ایجنسیاں ہوا دے رہی ہیں، جس کی بھارت تردید کرتا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ عسکریت پسندی پر قابو پا کر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل سکیورٹی فراہم کرے گا۔
8 جولائی کو پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ صرف ایک ہفتے کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 42 افراد جان سے گئے۔انہوں نے عسکریت پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “ہم تمہارا ہر جگہ تعاقب کریں گے اور تمہیں نقصان پہنچائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے ردعمل میں “معقولیت اور تناسب کی پابند نہیں رہے گی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق 5 جولائی سے اب تک سکیورٹی فورسز نے علیحدگی پسند اور مذہبی شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال نے چین کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر ڈالا ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں نے چینی مفادات اور شہریوں کو متعدد بار نشانہ بنایا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک درجن سے زائد چینی شہری مختلف حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ سمیت بیجنگ کے اعلیٰ حکام پاکستان پر زور دیتے رہے ہیں کہ مزید سرمایہ کاری کے لیے سکیورٹی کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق سیندک منصوبے کو درپیش مشکلات پاکستان کے اس منصوبے کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہیں، جس کے تحت مغربی سرحدی علاقے کو معدنی وسائل کی پیداوار اور برآمدات کا اہم مرکز بنایا جانا تھا۔رپورٹ یاد دلاتی ہے کہ مارچ کے آخر میں بھی بیرک مائننگ نے تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کے ریکوڈک منصوبے پر پیش رفت مؤخر کر دی تھی، کیونکہ کمپنی خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ایران میں امریکہ۔اسرائیل جنگ کے باعث سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا جائزہ لے رہی تھی۔ریکوڈک، سیندک سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور دونوں منصوبے نقل و حمل کے کئی مشترکہ راستے استعمال کرتے ہیں۔فنانشل ٹائمز کے مطابق سیندک میٹلز لمیٹڈ، پاکستان کی وزارتِ توانائی اور میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔


