سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے چکوال میں آسٹریلوی بچی کے قتل اور ماضی میں زمان پارک آپریشن کے دوران پیش آنے والے ایک سچے واقعے کا موازنہ کرتے ہوئے پاکستانی نظام کو بے نقاب کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق چکوال میں پولیس فائرنگ سے آسٹریلوی نژاد بچی ہانیہ احمد کی ہلاکت اور آسٹریلوی وزیرِ اعظم کی مداخلت پر ردِعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دہرے معیار پر شدید تنقید کی اور واضح کیا ہے کہ پاکستان میں انصاف اور عزت صرف غیر ملکی پاسپورٹ والوں کو ملتی ہے، جبکہ عام پاکستانی شہری کو کیڑے مکوڑوں کی طرح سمجھا جاتا ہے۔
بالکل صحیح آسٹریلین پاسپورٹ کی برکت ہے کہ آج پوری CCD ملزوم خاندان کے دروازے پر ماتھا ٹیک رہی ہے، مجھے یاد ہے کہ زمان پارک پر چھاپہ پڑا اور کئ MPA اور سینیٹر اعجاز چوہدری گرفتار ہوئے، رات کو سب لوگ تھانہ ریس کورس کے فرش پر بیٹھے تھے کہ گبھرایا ہوا تھانیدار اندر آیا “آپ میں شاھد… https://t.co/3g01BNCjrN
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) June 16, 2026
فواد چوہدری کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ یہ بالکل صحیح اور تلخ حقیقت ہے کہ یہ صرف اور صرف آسٹریلین پاسپورٹ کی برکت ہے کہ آج پوری سی سی ڈی اور پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت مظلوم خاندان کے دروازے پر ماتھا ٹیک رہی ہے اور معافیاں مانگ رہی ہے، ورنہ اگر یہ کوئی عام پاکستانی خاندان ہوتا تو اب تک پولیس انہیں ہی مجرم بنا چکی ہوتی۔
اردو پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک پر پولیس نے چھاپہ مارا تھا، تو وہاں سے تحریکِ انصاف کے کئی ایم پی ایز اور سینیٹر اعجاز چوہدری کو گرفتار کیا گیا، گرفتاری کے بعد رات کو سینیٹر اعجاز چوہدری اور دیگر ارکانِ اسمبلی تھانہ ریس کورس کے فرش پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک گھبرایا ہوا تھانیدار اندر آیا اور اونچی آواز میں بولا، ‘آپ میں سے شاہد کون ہے؟’۔سابق وفاقی وزیر کہتے ہیں کہ وہاں موجود ایک قیدی شاہد بھائی نے جواب دیا، ‘جی میں ہوں شاہد’، تھانیدار نے پوچھا، ‘تسی برٹش نیشنل او؟’ (کیا آپ برطانوی شہری ہیں؟) شاہد نے جواب دیا، ‘جی میں برٹش نیشنل آں’، یہ بات سنتے ہی تھانیدار نے کہا، ‘پہلاں نہیں دسیا! (پہلے کیوں نہیں بتایا؟)’۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سینیٹر اعجاز چوہدری اور ایم پی اے صاحبان تھانے کے فرش پر ہی بیٹھے رہ گئے جبکہ شاہد بھائی کو برٹش نیشنل ہونے کی وجہ سے نا صرف فوری چھوڑ دیا گیا بلکہ پولیس نے ان سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی، جو ملک اپنے عام شہریوں کا سینیٹر ہونے کے باوجود احترام نہ کرتا ہو لیکن ایک غیرملکی پاسپورٹ کے سامنے ڈھیر ہو جاتا ہو، اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے سرکاری دفاتر میں باقاعدہ ایک سیٹ کوڈ کے تحت اپنے ہی شہریوں کی تذلیل اور بے عزتی کرنے کو افسران اپنا فخر اور رعب سمجھتے ہیں، اللہ ہی ان حکمرانوں اور اداروں کو عقل دے کہ ایک مضبوط اور غیرت مند ملک ہمیشہ اپنے شہریوں کو عزت دے کر بنتا ہے، اپنوں کو بے عزت اور ذلیل کرکے کوئی بھی ریاست دنیا میں قائم نہیں رہ سکتی۔

