واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو ’کامیاب‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس کا دوسرا مرحلہ نسبتاً آسان ہوگا۔ فرانس میں جی سیون (G7) اجلاس کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کے موقع پر ٹرمپ نے ایران میں امریکی سرمایہ کاری کے دعووں کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
قطر کے کردار کی تعریف
صدر ٹرمپ نے معاہدے میں قطر کے کردار کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ جس طرح قطر نے معاملات کو سنبھالا، اس سے وہ انتہائی متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، قطر کے امیر نے کہا کہ یہ ایک اہم معاہدہ ہے اور اگر اسی طرح مشترکہ کوششیں جاری رہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں خطے کے لیے بہتری کے امکانات روشن ہیں۔
اس معاہدے کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملہ اور وہاں جاری قبضہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے نقطۂ نظر سے اس معاہدے کے ایک فریق ایران اور حزب اللہ، جبکہ دوسرا فریق امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں دونوں جانب سے حملوں کی اطلاعات ہیں۔
مستقبل کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ انہوں نے تہران میں سفارتی مشنز کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی کامیابی کے لیے فریقین کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
یاد رہے کہ معاہدے کے باوجود اسرائیل نے لبنان میں اپنے ’سیکیورٹی زونز‘ کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس سے معاہدے کی پائیداری کے حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
ٹرمپ پرامید، قطر کا کردار اہم؛ ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے دیا

