ایڈورڈز ایئر فورس بیس، کیلیفورنیا: امریکی ریاست کیلیفورنیا کے صحرائے موجاوی میں واقع ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر امریکی فضائیہ کا ایک B-52 اسٹریٹوفورٹریس بمبار طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد خوفناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا ہے۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 8 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
ایئر بیس کے حکام کے مطابق، طیارہ معمول کے ٹیسٹ مشن پر روانہ ہوا تھا کہ ٹیک آف کے کچھ ہی لمحوں بعد تکنیکی خرابی کے باعث رن وے کے قریب صحرائی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شعلوں میں گھر گیا۔ حادثے کی فوٹیج میں جائے وقوعہ سے کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے، جبکہ ہنگامی طبی امداد اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔
BREAKING: Another B52 has crashed in Edward airforce base! pic.twitter.com/LUGS96WsWS
— West Asia Post™️ (@westasiapost) June 16, 2026
ایڈورڈز ایئر فورس بیس کے 412 ویں ٹیسٹ ونگ کے ڈپٹی کمانڈر، کرنل جیمز ہیز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حادثے میں تمام 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ طیارے میں فوجی اہلکار اور سرکاری ٹھیکیدار سوار تھے۔ کرنل ہیز نے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم اس عمل میں چھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
A B-52 Crashed in Edward’s AFB, causing 8 deaths
Ash. Nothing left. 😭pic.twitter.com/mujP4pERcj
— PLA Military Updates🇨🇳 (@PLA_MilitaryUpd) June 15, 2026
B-52 اسٹریٹوفورٹریس طیارہ’’ امریکا کا فخر‘‘
B-52 اسٹریٹوفورٹریس امریکی فضائیہ کا ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا بمبار طیارہ ہے جو 1955 سے سروس میں ہے۔ یہ طیارہ جوہری اور روایتی دونوں طرح کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کئی دہائیوں سے امریکی فضائی طاقت کا اہم حصہ رہا ہے۔ 2025 میں اسی طیارے کو جدید ترین ریڈار سسٹم کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا تھا۔
اسے ’دی بف‘ بھی کہا جاتا ہے جو جزوی طور پر ’بگ اَگلی فیٹ (یعنی بڑا، بھدا اور موٹا)‘ کا مخفف ہے۔ اس بمبار طیارے کی لمبائی 159 فٹ ہے اور اس کے پر 185 فٹ کے ہیں۔
بی 52 طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا سٹریٹجک بمبار ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران وہاں بمباری میں بھی شامل رہا۔
آٹھ انجن والے بی 52 کو بیسویں صدی کا سب سے زیادہ خطرناک بمبار طیارہ سمجھا جاتا ہے اور اسے امریکہ کی تین نسلوں نے اڑایا۔ اس جہاز نے ویتنام کی جنگ، عراق کی دو جنگوں اور افغانستان کے خلاف ایک جنگ میں بھی حصہ لیا۔یہ طیارہ 650 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے (جبکہ مسافر طیارے عموماً 35 ہزار فٹ تک پرواز کرتے ہیں)۔ یہ 70 ہزار پاؤنڈ وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سینکڑوں روایتی بموں کے ساتھ ساتھ 32 جوہری کروز میزائل لے کر اڑان بھر سکتا ہے۔یہ فضا میں ہی ایندھن حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس سے اس کی پرواز کرنے کی حد تقریباً لامحدود ہو جاتی ہے اور اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ یہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کارروائی کے لیے جا سکتا ہے۔ سرد جنگ کے دوران اس نے امریکہ کے لیے ’جوہری چھتری‘ کا کردار ادا کیا تھا۔
فی الحال حادثے کے بعد ایئر بیس کے کچھ حصوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں فضائی سرگرمیوں کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی یا حادثہ کسی اور وجہ سے پیش آیا۔

