خلائی تحقیقاتی کمپنی اسپیس ایکس کے شیئرز پہلی بار فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے بعد ایلون مسک تاریخ کے پہلے ٹریلین ایئر بن گئے۔
انیشیئل پبلک آفرنگ (آئی پی او) میں کمپنی کا فی شیئر 135 ڈالر میں فروخت کے بعد ایلون مسک نے ایک ٹریلین ڈالر (ہزار ارب ڈالر) کی حد عبور کی۔
اسپیس ایکس نے اس پیشکش کے نتیجے میں 75 ارب ڈالر اکٹھے کیے جس کے بعد کمپنی کی مالیت 1.77 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں :
ایلون مسک تاریخ کے پہلے ‘ٹریلینر’ بننے کو تیار؟ دولت کا حجم ہوش اڑا دینے کے لیے کافی!
فوربز کے مطابق آئی پی او سے پہلے ان کی مجموع مالیت 813 ارب ڈالر تھی۔امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت اور دنیا کے پہلے کھرب پتی بننے والے ایلون مسک ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ان کی خلائی، سیٹلائٹ اور مصنوعی ذہانت پر مشتمل کمپنی اسپیس ایکس نے جمعرات کو اپنے ابتدائی عوامی شیئر فروخت (آئی پی او) کے ذریعے ریکارڈ 75 ارب ڈالر اکٹھے کیے، جس کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت 1.1 کھرب ڈالر سے تجاوز کرنے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
— Elon Musk (@elonmusk) June 12, 2026
فوربز کے مطابق آئی پی او سے قبل ایلون مسک کی دولت تقریباً 780 ارب ڈالر تھی، جبکہ ان کی دولت کا بڑا حصہ اسپیس ایکس میں موجود حصص پر مشتمل ہے، جن کی مالیت تقریباً 866 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس کی لسٹنگ کے بعد ایلون مسک دنیا کے امیر ترین فرد کی حیثیت مزید مستحکم کر لیں گے۔
54 سالہ ایلون مسک نے جنوبی افریقہ میں جنم لیا اور بعد ازاں امریکہ میں کاروباری دنیا میں اپنی شناخت بنائی۔ انہوں نے 2008 میں ٹیسلا کی قیادت سنبھالی اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں انقلاب برپا کیا۔ ان کے حامی انہیں جدت طرازی اور جرات مندانہ وژن کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین ان پر حد سے زیادہ اثر و رسوخ، کمزور کارپوریٹ گورننس اور سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
2022 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے 44 ارب ڈالر کے حصول نے ایلون مسک کو عالمی سیاسی اور سماجی مباحث میں ایک طاقتور آواز بنا دیا۔ گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں ان کے کردار نے بھی خاصی بحث کو جنم دیا۔

