تحریر حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
جس طرح ایک نافرمان اولاد اپنے والدین کے بوڑھا ہونے پر انکا خیال رکھنا چھوڑ جاتی ہے بالکل اسی طرح کا سلوک حکومت بھی اپنے عمر رسیدہ پینشنرز کیساتھ روا رکھے ہوۓ ہے۔بزرگ پینشنرز کے حوالے سے حکومت کے حالیہ فیصلوں پر بالکل اسی طرح کی تنقید سامنے آ رہی ہے۔سرکاری ملازمین بشمول اساتذہ کی تنظیموں نے بجٹ اور پینشن کے معاملے میں بزرگ پینشنرز کے حقوق کیلئے کبھی بھی ، کہیں بھی اور کسی بھی فورم پر آواز بلند نہیں کی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شائد وہ کبھی بھی ریٹائر نہیں ہونگے حالانکہ یہ وقت تو ان پر بھی آنا ہی آنا ہے۔پاکستان پینشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشنppwa کا کہنا ہے کہ اس بجٹ میں سب سے زیادہ ظلم بزرگ بیمار اور لاچار پینشنرز پر کیا گیا ہے جن کی پینشن کا اضافہ روک کر ریگولر سرکاری ملازمین کے ڈسپیریٹی الاونس میں شامل کروایا گیا ہے۔اس ضمن میں ایک یونین لیڈر کا نام لیا جا رہا ہے جنہیں اس حوالے سے پہلے ہی مشہور تصور کیا جاتا ہے۔یہ بات کہاں تک درست ہے؟ یہ تو اللہ جانے یا دینے والے جانیں لیکن یہ واقعی بہت بڑا ظلم ہے۔بزرگ پینشنرز وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں ریاست اور ریاست کے شہریوں کی خدمت میں گزار دی ہیں اور اب جب وہ اپنی سروس پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہوۓ ہیں تو انہیں ایک فیوز شدہ بلب سمجھ کر کچرے میں پھیک دیا گیا ہے۔
دوسری طرف اگر عوام کو بجٹ میں ریلیف دینا مقصد تھا اور مہنگائی کو کم کرنا تھا تو ضروری تھا کہ بجلی کے بلوں سے ناروا فکسڈ ٹیکس کو ختم کیا جاتا۔ بجلی کے بلوں سے چھ مہینے کا سلیب سسٹم کا ظلم ختم کیا جاتا۔ پیٹرول پر لی جانے والی لیوی کو کم کرکے پیٹرول کی قیمت کم کیا جاتا۔ سرکاری ملازمین خصوصا” پینشنرز کی پینشنز میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جاتا۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ ٹیکس بھی کم کیا تو بیوروکریٹس کی تنخواہوں سے کم کیا جو ماہانہ لاکھوِں روپیہ تنخواہ لیتے ہیں۔امیر ترین لوگوں کی تنخواہوں سے ٹیکس کم کرنے سے غریب سرکاری ملازم کو کیا فائدہ ہوا۔اس بجٹ میں تنخواہوں اور پینشن میں %7 تک اضافے کے ذریعے ایک چھوٹے ملازم کی ماہانہ تنخواہ میں محض 1400 روپے سکہ رائج الوقت کا شرمناک اضافہ ہوا اور اس پر اربوں کے اشتہارات اور سوشل میڈیا مہم ایسے چلائی جا رہی ہے جیسے سارا کچھ اٹھا کر انہیں دیدیا گیا ہے۔ جبکہ بجٹ میں قوم کو بھکاری بنانے پر 835 ارب روپے اور عوام کے بنیادی اور آئینی حق تعلیم اور صحت پر صرف 20 ارب اور 25 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ہہ سب کیا ہے اور کیوں ایسا کیا گیا ہے۔؟ خدارا کچھ سوچو۔!!!


