تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے کبھی کبھی کوئی خبر صرف ایک خبر نہیں ہوتی بلکہ یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک سوال ہوتا ہے ۔ضلع چکول کا حالیہ واقعہ بھی اسی طرح کا سوال ہے ۔ پاکستانی نسل کا ایک آسٹریلوی شہری اپنے خاندان کے ساتھ حج کرنے کے بعد گھر چلا جاتا ہے ۔وہ اپنے پیاروں کے ساتھ کچھ دن گزارتا ہے ۔ پھر ایک رات آتی ہے جو اس کے پورے وجود کو بدل دیتی ہے ۔ اس کی نو سالہ بیٹی ہانیہ ہمیشہ کے لیے اس سے الگ ہو جاتی ہے ، اس کا بیٹا بری طرح زخمی ہو جاتا ہے اور اسے خود گولی مار دی جاتی ہے ۔ اس صورتحال کی سب سے افسوسناک بات محض ایک معصوم لڑکی کی موت نہیں ہے بلکہ وہ سوالات ہیں جو اس سانحے کے گرد گھوم رہے ہیں ۔ اگر ڈاکو تھے تو گولی کس نے چلانی شروع کی ؟ اگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار موقع پر پہنچ چکے ہوتے تو ان کا گیم پلان کیا ہوتا ؟ کیا شہریوں کی زندگیاں اولین ترجیح تھیں یا مجرموں کا تعاقب ؟اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہ کس کی غلطی تھی کہ ایک بے گناہ بچی کی زندگی حتمی نتیجہ تھی ؟ دنیا کے صنعتی ممالک میں پولیس کی کارروائیوں کا بنیادی تصور شہریوں کی زندگی کو تمام ممکنہ خطرات سے بچانا ہے ۔اگر کسی جگہ پر یرغمال یا شہری ہیں تو ہم انتہائی احتیاط کے ساتھ طاقت کا استعمال کرتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ، ہماری کامیابی کی پیمائش عام طور پر اس بات سے کی جاتی ہے کہ ہم مجرم کو پکڑتے ہیں یا نہیں ، یہاں تک کہ بے گناہ راہگیروں کی قیمت پر بھی ۔اس طرح کی سوچ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتی ہے ۔ اس سانحے کا ایک اور بہت ضروری حصہ ہے ۔یہ خاندان آسٹریلیا میں مقیم ہے ۔اس طرح کے واقعات غیر ملکی پاکستانیوں کے ذہنوں میں ان کی قوم کے بارے میں خوف پیدا کرتے ہیں ۔بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر سال پاکستان کو اربوں ڈالر بھیجتے ہیں ۔ اگر وہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے ہیں تو نتیجہ صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہے گا ۔ لیکن یہ پورے ملک میں پہنچ جائے گا ۔ ہانیہ احمد اب واپس نہیں آسکتی ۔اس کی مسکراہٹ ، اس کے خواب اور اس کا مستقبل ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا ہے ۔ لیکن اس کی موت رائیگاں نہیں جانی چاہیے ۔ یہ بہت ضروری ہے کہ انکوائری مکمل طور پر شفاف ہو اور کسی بھی ذمہ دار شخص کو محض محکمہ جاتی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے ، بلکہ اس کے مطابق جوابدہ بنایا جائے
معاشرے ان کی فلک بوس عمارتوں یا ان کی بڑی شاہراہوں سے نہیں بنتے بلکہ اس سے بنتے ہیں کہ وہ ایک بے گناہ بچے کے خون کے ساتھ کس طرح سلوک کرتے ہیں ۔ اگر ہانیہ کے والد کو انصاف نہ دیا گیا ، سوالات پر توجہ نہ دی گئی اور قصوروار قرار ہو گئے تو یہ صرف ایک خاندان کی شکست نہیں بلکہ پورے نظام کا خاتمہ ہوگا ۔ہانیہ شاید اس دنیا سے باہر چلی گئی ہو لیکن اس کا نام یہ سوال اٹھاتا رہے گا کہ کیا پاکستان میں ایک اوسط شہری واقعی محفوظ ہے ؟ سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ ہانیہ کی قبر پر فاتحہ کہنے گئے پھر گھر دادا کے پاس افسوس کے لئے گئے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ اس کیس میں ذمہ داروں کو سزا دلائینگے جس پر مقتولہ ہانیہ کے دادا نے اطمینان کا اظہار کیا لیکن مقتتولہ کے باپ عدیل کو نہ جانے کیوں یقین نہیں آرہا کہ انہیں انصاف ملے گا مقتولہ کے دادا نے بھی اظہار کیا تھا کہ جیسے سی سی ڈی کریمنلز کے ساتھ سلوک کرتی ہے یعنی کہ فل فرائی