اسلام آباد:فاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے آٹو موبائل شعبے کے لیے متعدد اہم اعلانات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آٹو سیکٹر پاکستان کی معیشت کے اہم ترین شعبوں میں شامل ہے اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران متعارف کرائی گئی پالیسیوں نے اس صنعت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملک میں اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم ایس ) اور اسمبلرز کی تعداد بڑھ کر 118 ہو چکی ہے، جن میں ٹریکٹر، موٹر سائیکل، مسافر گاڑیوں اور کمرشل گاڑیوں کے مینوفیکچررز شامل ہیں۔گزشتہ برسوں کے دوران آٹو سیکٹر میں نئے مینوفیکچرنگ پلانٹس کے قیام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر نمایاں سرمایہ کاری کی گئی، جس سے نہ صرف صنعت میں مسابقت میں اضافہ ہوا بلکہ شعبے کی جدید خطوط پر ترقی اور ماڈرنائزیشن بھی ممکن ہوئی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی ٹیکس نظام کو آئندہ مالی سال کے دوران بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی تاکہ ایندھن کے درآمدی بل میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔
الیکٹرک ٹرکوں پر بھی صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز دے رہی ہے، جس کا مقصد تجارتی اور مال برداری کے شعبے میں الیکٹرک ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
الیکٹرک ٹرکس، گاڑیوں، رکشوں ، موٹر سائیکلوں پر رعایتی ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ

