راولپنڈی:عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سیاسی میدان کے پرانے کھلاڑی شیخ رشید احمد نے اب سیاست کے ساتھ ساتھ عدالتوں میں بھی اپنی ‘دلیل’ آزمانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پچاس سالہ طویل وقفے کے بعد شیخ رشید کی وکالت کا لائسنس بحال کردی گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے اپنے اس اچانک فیصلے کے پیچھے کارفرما فلسفے کا اظہار کچھ اس انداز میں کیا کہ سننے والے بھی ہنس پڑے۔ انہوں نے کہا کہ، "سارا دن گزارنا بڑا مشکل ہوتا ہے، دن کٹتا نہیں ہے، اس لیے سوچا کہ کیوں نہ دوبارہ وکالت شروع کی جائے۔”
شیخ رشید نے وکالت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا.کہتے ہیں کہ پچاس سال بعد زندگی گزارنے کے بعد راولپنڈی بار نے میری ممبر شپ دوبارہ بحال کر دی،میں بار کاادنیٰ سا ساتھی بن گیا ہوں، pic.twitter.com/fi8oPo1XFl
— Latif Shah (@LatifShah27163) June 2, 2026
گویا ملک کے سیاسی ایوانوں میں گرمی پیدا کرنے والے شیخ صاحب کو اب ‘فری ٹائم’ میں اپنا وقت گزارنے کے لیے قانونی کتابیں اور کچہری کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
بار کی سیاست نہیں، صرف چیمبر!
شیخ رشید نے وضاحت کی کہ وہ بار ایسوسی ایشن کی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ سردار رازق ایڈوکیٹ کے چیمبر میں بیٹھ کر قانونی موشگافیاں کریں گے۔
تجزیہ کار اس فیصلے کو شیخ رشید کے منفرد اندازِ سیاست کا ہی ایک حصہ قرار دے رہے ہیں۔ جہاں سیاست میں ان کے بیانات اور پیش گوئیاں ہمیشہ خبروں کی زینت بنتی ہیں، وہیں اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا عدالتوں میں بھی وہ اپنی مخصوص ‘شیخ رشید’اسٹائل اداکاری اور برجستہ جملوں سے ججوں اور مخالف وکیلوں کو قائل کر پاتے ہیں یا نہیں۔
اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کیا شیخ صاحب کا یہ فیصلہ صرف ‘دن کاٹنے’ کا ایک ذریعہ ثابت ہوگا یا وہ کچہری میں بھی سیاسی ہلچل مچانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ فی الحال تو راولپنڈی کی بار میں اس پیش رفت پر دلچسپ چہ مگوئیاں جاری ہیں۔

