سکھر ( رپورٹ/ عبد الرحمان راجپوت ) نصیر آباد پی پی ایچ آئی یونٹ میں مبینہ طبی غفلت، ڈیلیوری کے دوران خاتون جاں بحق، ورثاء کا احتجاج
سکھر کے علاقے سائٹ ایریا نصیر آباد میں واقع پی پی ایچ آئی یونٹ میں مبینہ طبی غفلت کے باعث ڈیلیوری کے دوران ایک نوجوان خاتون کے جاں بحق ہونے پر ورثاء اور شیخ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے ضلعی صدر اصغر علی عرف نومی سندھی، پارٹی کارکنوں، مقتولہ 30 سالہ شازیہ شیخ زوجہ غلام یاسین شیخ کے اہل خانہ اور برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین میں غلام نبی شیخ، عبدالقیوم شیخ، رخسار شیخ اور دیگر شامل تھے۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ 25 مئی کو شازیہ شیخ کو زچگی کے لیے نصیر آباد پی پی ایچ آئی یونٹ لایا گیا، جہاں ڈاکٹر سائرہ نے ان کی نارمل ڈیلیوری کروائی۔ ورثاء کے مطابق ڈیلیوری کے بعد ڈاکٹر نے انہیں بیٹے کی پیدائش کی مبارکباد دیتے ہوئے بتایا کہ ماں اور بچہ دونوں خیریت سے ہیں اور جلد ہی مریضہ کو وارڈ منتقل کر دیا جائے گا۔ورثاء کا کہنا تھا کہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے گزرنے کے باوجود شازیہ شیخ کو وارڈ میں منتقل نہیں کیا گیا۔ جب اہل خانہ نے مریضہ کی حالت کے بارے میں استفسار کیا تو مبینہ طور پر ڈاکٹر اور دیگر عملہ کوئی تسلی بخش جواب دیے بغیر وہاں سے چلے گئے۔ اہل خانہ کے مطابق صورتحال تشویشناک ہونے پر وہ مریضہ کو فوری طور پر سول اسپتال سکھر لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد بتایا کہ مریضہ کی حالت انتہائی نازک ہے اور اسے بچانا ممکن نہیں رہا۔احتجاجی مظاہرین نے مزید دعویٰ کیا کہ سول اسپتال کی ایک سینئر ڈاکٹر نے فون پر متعلقہ ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہوئے مریضہ کی تشویشناک حالت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ورثاء کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی مذکورہ ڈاکٹر کی مبینہ غفلت کے باعث ان کے خاندان کی ایک اور خاتون کی جان خطرے میں پڑی تھی، تاہم وہ خوش قسمتی سے بچ گئی تھی۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ طبی عملے کی غفلت اور غیر ذمہ داری کے باعث شازیہ شیخ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، محکمہ صحت سندھ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) سکھر اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔

