تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

آن لائن آرڈرز، خواتین رائیڈرز، کروڑوں کی کوکین اور جدید سپلائی سسٹم نے یہ تاثر مضبوط کر دیا ہے کہ یہ کوئی عام اسٹریٹ کرائم نہیں بلکہ طاقتور سہولت کاروں کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔
معاملہ اس وقت مزید مشکوک ہو گیا جب پنکی کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی اور پروٹوکول کے ساتھ پیش کیا گیا، جس پر آئی جی سندھ کو نوٹس لینا پڑا اور اہلکار معطل کر دیے گئے۔ لیکن اہلکاروں کو حکم دینے والے افسران کا نام بے نقاب نہیں ہوا جو تحقیقاتی کمیٹی کو سامنے لانا ہوگا ۔کراچی پولیس کے کچھ عناصر اس نیٹ ورک سے واقف تھے یا پھر سب کچھ خاموشی سے چلنے دیا جا رہا تھا؟ تحقیقات کا اصل امتحان یہ ہے کہ کیا صرف “پنکی” کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا یا اس کے پیچھے موجود بڑے کردار بھی بے نقاب ہوں گے؟

