Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      شوگر کےخاتمے کا علاج، بجلی سےانسولین کنٹرول کرنیوالی ڈیوائس ایجاد

      چین کی الیکٹرک گاڑی نے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا؛ رفتار 503 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی

      ناسا کی 22 سالہ خلائی دوربین کا زمین کی فضا میں داخل ہونے پرکیا بنا

      واٹس ایپ صارفین کیلئے جادو کا چراغ بن گیا، بڑی سہولت متعارف

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    چھٹیوں کے سائے میں دم توڑتی تعلیم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp
    تحریر: حکیم خالد محمود بیگ
    پاکستان میں جب بھی قومی مسائل کا ذکر ہوتا ہے تو ہم معیشت، سیاست، مہنگائی اور بے روزگاری پر طویل بحث کرتے ہیں، مگر جس مسئلے سے ان تمام بحرانوں کا حل جڑا ہوا ہے، یعنی تعلیم، وہ ہمیشہ پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا نظامِ تعلیم مسلسل زوال کا شکار ہے اور تعلیمی ادارے تدریس کے مراکز کم اور تعطیلات کے اڈے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔اگر پنجاب میں یکم جنوری سے 31 اگست تک تعلیمی دنوں کا جائزہ لیا جائے توصورتحال نہایت تشویشناک نظر آتی ہے۔ 8 ماہ کے مجموعی 243 دنوں میں تقریباً 173 دن مختلف چھٹیوں، ویک اینڈز، موسمی تعطیلات اور اچانک سرکاری اعلانات کی نذر ہوگئے۔ یوں ہمارے بچے صرف دو ماہ دس دن ہی سکول جاسکے یا جا سکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسی طرح قوموں کا مستقبل تعمیر کیا جاتا ہے؟جنوری میں موسمِ سرما کی طویل تعطیلات کے باعث بچےصرف 9 دن سکول گئے۔ فروری میں یومِ کشمیر، بسنت اور ہفتہ وار تعطیلات نے تعلیمی سلسلہ محدود کردیامارچ میں مختلف وجوہات اور عید کی تعطیلات نے سکولوں کے دروازے بند رکھے۔ اپریل میں ہفتے میں تین چھٹیاں دے کر تعلیمی نظام کو مزید کمزور کیا گیا، جبکہ مئی سے اگست تک گرمیوں کی طویل چھٹیوں نے تعلیمی سرگرمیوں کو تقریباً معطل کردیا۔دوسری جانب والدین مہنگا نصاب خریدتے ہیں، بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں، رکشوں اور ویگنوں کے کرائے دیتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں معیاری تعلیم نہیں بلکہ “چھٹیاں ہی چھٹیاں” ملتی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان متوسط اور غریب طبقے کے بچوں کا ہوتا ہے، کیونکہ امیر طبقہ تو ٹیوشن، آن لائن کلاسز اور نجی سہولیات کے ذریعے تعلیمی خلا پورا کرلیتا ہے۔اگر دنیا کے ترقی یافتہ ممالکوں پر نظر ڈالیں تو وہاں تعلیم کو محض ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی بقا کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے،جاپان میں سالانہ دو سو سے زائد تدریسی دن ہوتے ہیں اور وقت کی پابندی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ساوتھ کوریا نے تعلیم کو اپنی معاشی ترقی کی بنیاد بنایا اور آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔فن لینڈ میں کم وقت میں معیاری اور مؤثر تعلیم دی جاتی ہے جبکہ سنگاپور  نے جدید تعلیمی اصلاحات کے ذریعے پوری دنیا میں مثال قائم کی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسئلے کا آسان حل سکول بند کرنا سمجھ لیا گیا ہے۔ کبھی موسم، کبھی احتجاج، کبھی سیکیورٹی خدشات اور کبھی انتظامی مسائل کے نام پر تعلیمی اداروں کو بند کردیا جاتا ہے۔ یوں طلبہ کی ذہنی استعداد، تعلیمی تسلسل اور مستقبل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارتوں کی تقسیم کے وقت تجربات رکھنے والوں کو منتخب کرنے کے لیے باقاعدہ طور اس شعبہ میں تجربہ و مہارت رکھنے والوں کو صف اول میں لایا جائے خصوصاً نظام تعلیم کو،اورتعلیم کو واقعی قومی ترجیح بنایا جائے۔ غیر ضروری تعطیلات ختم کی جائیں، سالانہ تعلیمی کیلنڈر پر سختی سے عمل کیا جائے، جدید ٹیکنالوجی اور آن لائن تدریس کو فروغ دیا جائے، اساتذہ کی تربیت بہتر بنائی جائے اور نصاب کو معیاری و عملی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قومیں جلسوں، نعروں اور وقتی اعلانات سے نہیں بلکہ سکولوں اور کتابوں سے ترقی کرتی ہیں، اساتذہ اکرام کی ڈیوٹیاں انتخابات یا دیگر سرگرمیوں کی بھینٹ چڑھانے کے بجاے انکے تعلیمی معیار کو اپ گریڈ کرنے کے لیے آن لائن سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ ترقی یافتہ نظام تعلیم اور اساتذہ کے تدریسی عمل سے نفع حاصل کرسکیں ،اگر آج بھی ہم نے تعلیم کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی، کیونکہ بند سکول دراصل بند مستقبل کی علامت ہوتے ہیں۔

    Related Posts

    دیوالی: روشنی، خوشیوں، محبت اور امید کا عظیم تہوار

    ’’پولیس کی دنیا کے تین دلچسپ منظرنامے، انسانی ہمدردی، جھپیاں پپیاں اور اہم عہدے کی جنگ’’

    پیلو وینس کا جسرا خاندان؛ علم و طب کے میدان میں 27 ڈاکٹرز کی روشن مثال

    مقبول خبریں

    کراچی: کلفٹن میں گھریلو تنازع، باپ نے کمسن بیٹے کو قتل کرکے خودکشی کرلی

    سانگھڑ: پلاٹ کے تنازع پر نظامانی برادری میں مسلح جھگڑا، نوجوان جاں بحق، دو زخمی

    مٹیاری: شگر مل روڈ پر ٹریفک حادثہ، کمسن بچہ جاں بحق، 3 افراد شدید زخمی

    شوگر کےخاتمے کا علاج، بجلی سےانسولین کنٹرول کرنیوالی ڈیوائس ایجاد

    چار بوگیوں میں آتشزدگی،مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی

    بلاگ

    دیوالی: روشنی، خوشیوں، محبت اور امید کا عظیم تہوار

    ’’پولیس کی دنیا کے تین دلچسپ منظرنامے، انسانی ہمدردی، جھپیاں پپیاں اور اہم عہدے کی جنگ’’

    پیلو وینس کا جسرا خاندان؛ علم و طب کے میدان میں 27 ڈاکٹرز کی روشن مثال

    ’’عمران خان کی نئی ڈائریکشن’’ میاں حبیب کاکالم

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.