کراچی :کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت اور پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب اور انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو پرٹوکول دینےکے معاملے پر 3 پولیس افسران کو معطل کردیاگیا۔
کراچی پولیس اور وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار ہونے والی ’کوکین کوئین‘ کے نام سے مشہور ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کو منگل کے روز سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں مقامی عدالت نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے تفتیشی افسر سے 14 روز میں چالان طلب کر لیا۔
اسی دوران ملزمہ کی عدالت آمد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انمول عرف پنکی نہ صرف بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش ہوئیں بلکہ ان کا چہرہ بھی نہیں ڈھانپا گیا تھا۔
ویڈیو میں انہیں شاہانہ انداز میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ عدالت کے احاطے میں دیکھا جاسکتا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ضیاء الحسن لنجار کے مطابق ملزمہ کے خلاف اے این ایف اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے مقدمات بھی موجود ہیں اور اسے انہی اداروں کی سفارش پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں معاونت کرنے والے تمام افراد ایک گھنٹے میں جیل میں ہوں گے۔
دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ تمام افسران و اہلکار قواعد و ضوابط کے پابند ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق بغیر ہتھکڑی ملزمہ کی پیشی کے معاملے پر کارروائی کی جائے گی۔ ابتدائی انکوائری کے بعد تین پولیس افسروں کو معطل کردیاگیا ہے۔ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال، آئی او سعید احمد اور ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال معطل کردیےگئے، واقعےکی انکوائری ایس ایس پی ساؤتھ کے سپرد کردی گئی۔

