اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے انڈر انوائسنگ کی روک تھام اور قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے لیے درآمدی سمارٹ واچز، سمارٹ بینڈز اور سمارٹ رِنگز کی کسٹمز ویلیوز میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں جدید ٹیکنالوجی تک عام شہری کی رسائی مزید مشکل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایف بی آر کے ذیلی ادارے ’ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیویشن‘ کی جانب سے جاری کردہ نئی رولنگ کے مطابق:
ان قیمتوں کا اطلاق دنیا بھر سے درآمد کی جانے والی تمام ’نان جی ایس ایم ویئرایبل ڈیوائسز‘ پر ہوگا۔
اس سے مراد وہ ڈیوائسز ہیں جن میں سِم کارڈ کی سہولت نہیں ہوتی اور وہ صرف بلیوٹوتھ یا وائی فائی کے ذریعے کام کرتی ہیں۔۔
برانڈز کی درجہ بندی اور نئی قیمتیں
درآمدی برانڈز کو ان کے معیار اور قیمت کے لحاظ سے تین مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے:
| کیٹیگری | برانڈز (مثالیں) | نئی کسٹمز ویلیو (فی عدد) |
| کیٹیگری اے | شاؤمی، ریڈمی، اوپو، ویوو | 5 ڈالر |
| کیٹیگری بی | ڈینی، فاسٹر، رونن، زیرو، لاگ اِن | 3 ڈالر |
| کیٹیگری سی | عام اور سستے برانڈز | ڈیڑھ ڈالر |

