بی بی سی رپورٹ کے مطابق ایک طاقتور آلے، جس میں فائبر آپٹک کی پانچ ہزار آنکھیں (لینز یا عدسے) نصب ہیں، نے ایک ایسا نقشہ یا تصویر بنائی ہے جو کائنات کے بارے میں ہمارے خیالات کو چیلنج کرتا ہے۔
چار کروڑ 70 لاکھ سے زائد کہکشاں اور دو کروڑ ستارے اِس بے مثال تصویر کا حصہ ہیں۔ یہ تصویرڈارک انرجی کے مطالعے کے لیے مخصوص سپیکٹروسکوپک آلے کی مدد سے تیار کی گئی ہے جو امریکہ کی ریاست ایریزونا میں واقع قومی ابزرویٹری میں میں موجود میال ٹیلی سکوپ پر نصب ہے۔
اس تصویر کا حصہ بننے والی کہکشاں اور ستاروں کی تعداد ماضی میں کی گئی تمام مجموعی پیمائشوں سے لگ بھگ چھ گنا زیادہ ہے۔
کولمبیا کی ای سی سی آئی یونیورسٹی سے فلکیات میں پی ایچ ڈی کرنے والی محقق لوز اینجیلا گارسیا نے بی بی سی کو بتایا کہ حاصل کردہ تصویر 11,000 ملین نوری سال کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے، یعنی اس نے کائنات کے ابتدائی مراحل میں موجود ایسی کہکشاں کو بھی فلم بند کیا ہے، جو کائنات کے آغاز کے قریب وجود میں آئیں اور جن کی عمر لگ بھگ 13,700 ملین سال بتائی جاتی ہے۔
اس تصویر کی صورت میں حاصل کیا گیا سنگ میل ہمیں کہکشاں کی ساخت اور ان کے ترتیب پانے کے طریقے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ڈارک میٹر یعنی تاریک مادے (جو سائنس کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہے) کے بارے میں بھی نئے اشارے فراہم کرتی ہے۔
گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ڈارک انرجی سپیکٹروسکوپک انسٹرومنٹ (DESI) نے آسمان کے تقریبا ایک تہائی حصے کا نقشہ تیار کر لیا ہے، جبکہ یہ آلہ ہر رات ایک لاکھ سے زائد کہکشاں کی پیمائش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فائبر آپٹک ڈیٹیکٹرز سے لیس یہ جدید سائنسی آلہ کہکشاں کے سپیکٹرم کو ناپنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی مدد سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ جب اِن کہکشاں کی روشنی زمین تک پہنچتی ہے تو اس دوران کائنات کتنی وسعت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔
لیکن DESI کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ ڈارک انرجی یعنی تاریک توانائی کو سمجھنے کا ایک نیا طریقہ پیش کرتا ہے۔ یاد رہے کہ ہماری کائنات کا 70 فیصد حصہ ڈارک انرجی پر ہی مشتمل ہے اور ایک ایسی قوت کے طور پر کام کرتی ہے جو کائنات کے پھیلا کو تیز کرتی ہے۔

