اسلام آباد / کراچی:پاکستان کے سیاحتی اور علاقائی فضائی رابطوں میں اضافے کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نووارد ایئر لائن "ساؤتھ ایئر” (South Air) کا پہلا اے ٹی آر 72-500 (ATR 72-500) طیارہ پاکستان پہنچ گیا ہے، جس کے بعد ایئر لائن نے جون 2026 سے اپنے باقاعدہ تجارتی آپریشنز شروع کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ساؤتھ ایئر کا یہ طیارہ TPRI (سیاحت کے فروغ اور علاقائی انضمام) پروجیکٹ کے تحت منگوایا گیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد پاکستان کے خوبصورت سیاحتی مقامات اور دور دراز کے علاقوں کو فضائی نیٹ ورک سے جوڑنا ہے تاکہ سیاحت کو عالمی سطح پر فروغ دیا جا سکے۔
"یہ طیارہ محض ایک مشین نہیں بلکہ پاکستان کے علاقائی مقامات کے درمیان فاصلے کم کرنے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔” — ہوا بازی کے حکام
حکام کا کہنا ہے کہ ساؤتھ ایئر کی آمد سے نہ صرف ملک میں فضائی سفر کے اختیارات بڑھیں گے بلکہ اس سے کئی مثبت اثرات بھی مرتب ہوں گے:
علاقائی رابطوں میں بہتری: چھوٹے شہروں اور سیاحتی مراکز کا بڑے شہروں سے رابطہ آسان ہو جائے گا۔
روزگار کی فراہمی: ایوی ایشن سیکٹر میں پائلٹس، کریو اور گراؤنڈ اسٹاف کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
تجارتی سرگرمیاں: بہتر فضائی روابط سے ملک بھر میں تجارتی ترسیل اور کاروباری میل جول میں تیزی آئے گی۔
ساؤتھ ایئر آئندہ ماہ یعنی جون 2026 سے اپنی پہلی پرواز بھرنے کے لیے پرُامید ہے۔ ماہرینِ ایوی ایشن اس اقدام کو پاکستان کے نجی فضائی شعبے میں ایک مثبت مقابلہ قرار دے رہے ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ مسافروں کو بہتر سہولیات اور مسابقتی کرایوں کی صورت میں ملے گا
پاکستان کی ایک اور نجی ائیرلائن: ”ساؤتھ ایئر“ کا پہلا طیارہ پاکستان لینڈ کر گیا، جون سے اڑان بھرے گا

