Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گیمرز کے لیے بڑی خوشخبری: ’جی ٹی اے 6‘ کی نئی اور طویل جھلک کب اور کہاں جاری ہوگی؟ پتہ چل گیا

      دنیا کا پہلا ’روبوٹ اسکول‘ کھل گیا: 30 ہیومینائڈ روبوٹس کی پہلی کلاس، سلیبس کیا اور امتحان کیسے ہوگا؟

      آرٹیفیشل انٹیلی جنس عالمی خطرہ: میٹا کے اے آئی ماڈل نے دوسری کمپنی کو ہیک کر لیا!

      اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بڑی تبدیلی: ”گوگل اسٹنٹ کے 10 سالہ دور کا خاتمہ “ متبادل متعارف کرا دیا گیا!

      اسپورٹس کا مستقبل بھی بدل گیا، روبوٹس کا سنسنی خیز مارشل آرٹس مقابلہ: شکست کے بعد مشین کاجشن، ویڈیو وائرل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    گیسٹ ہاؤسز سے رزقِ حلال تک، پولیس افسران کے رویہ نے ایک شخص کی زندگی بدل دی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    لاہور کی چمکتی سڑکوں، بلند عمارتوں اور جگمگاتے ہوٹلوں کے پیچھے ایک ایسی تاریک دنیا بھی آباد ہے جہاں انسان صرف جسم نہیں، اپنی روح بھی بیچ دیتا ہے۔ گیسٹ ہاؤسز، فارم ہاؤسز اور پوش ہوٹلز کی آڑ میں چلنے والا یہ کاروبار محض عیاشی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے منشیات، جوا، بلیک میلنگ، جنسی جرائم اور نوجوان نسل کی تباہی کو ایک صنعت کی شکل دے دی ہے۔ لیکن اسی اندھیرے میں ایک روشنی کی کرن بھی موجود ہے۔لاہور کے ایک شخص کی کہانی، جو کبھی اس کالے دھندے کا بڑا نام سمجھا جاتا تھا، آج کالم پڑھ کر معاشرے کیلئے ایک سبق بن جائیگی ۔ اس شخص کے شہر بھر میں گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹلز تھے۔ پولیس کے نچلے اہلکاروں سے لے کر بعض اعلیٰ افسران تک، سب اس دھندے سے اپنا حصہ وصول کرتے تھے۔ بجلی چوری الگ، ایکسائز کے معاملات الگ، اور “حفاظت” کے نام پر بھتہ الگ۔ یوں لگتا تھا جیسے پورا ایک غیر اعلانیہ نظام قائم ہو چکا ہو۔پھر وقت نے کروٹ لی۔ بار بار تبادلوں، نئی تعیناتیوں دوسرے صوبوں میں تبادلوں کے باوجود لامتناہی مطالبات نے اس شخص کو اندر سے توڑنا شروع کر دیا۔ کبھی کسی افسر کے بیٹے کیلئے گاڑی، کبھی کسی کے گھر سونا، کبھی کسی “مہمان” کی خاطر داری۔ یہ مطالبات ختم ہونے کے بجائے بڑھتے گئے۔ اس نے حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ وہ دولت نہیں کما رہا بلکہ اپنی قبر کھود رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب چند ایسے پولیس افسران سامنے آئے جنہوں نےاسے مزید دھکیلنے کے بجائے روک لیا۔ انہوں نے اسے سمجھایا کہ حرام کی کمائی وقتی آسائش تو دے سکتی ہے، سکون نہیں۔ انسان پیسے سے بستر خرید سکتا ہے، نیند نہیں۔ یہ الفاظ شاید پہلی بار اس کے دل میں اتر گئے۔ اس نے ایک دن اچانک سب کچھ چھوڑ دیا۔ہوٹلز بند، موبائل سمیں بند، رابطے ختم۔ وہ شخص جو کبھی “سونے کا انڈہ دینے والی مرغی” سمجھا جاتا تھا، اچانک منظر سے غائب ہو گیا۔ بہت تلاش ہوئی، بہت رابطے ہوئے، مگر وہ واپس نہ آیا۔ آج وہ پراپرٹی کے کاروبار سے رزقِ حلال کماتا ہے اور سکون کی زندگی گزار رہا ہے۔ ایک شخص نے توبہ کیوں کی۔ ہمارا معاشرہ ایسے دھندوں کو پنپنے کیوں دیتا ہے؟ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پنجاب بھرمیں بے شمار گیسٹ ہاؤسز، فارم ہاؤسز اور ہوٹلز اخلاقی تباہی کے مراکز بن چکے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان جگہوں پر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات تک رسائی رکھتے ہیں۔ منشیات فروش، جرائم پیشہ عناصر اور بلیک میلنگ کرنے والے گروہ انہی اڈوں کو استعمال کرتے ہیں۔ جب نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیلا جائے تو پھر معاشرے میں ڈکیتیاں، ریپ، خودکشیاں اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کیوں نہ بڑھے؟ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس کاروبار میں صرف چند پولیس افسر و اہلکار ہی نہیں بلکہ نام نہاد صحافی و دیگر محکموں کی کالی بھیڑیں بھی شریک رہتی ہیں۔ بجلی چوری کروا کر حصہ لینے والے، ٹیکس کے نام پر بھتہ لینے والے، اور خاموشی اختیار کرنے والے سب برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اسی لئے جب پنجاب پولیس کے اندر سے بعض افسران کی ایک فہرست تیار ہوئی تو دل کانپ اٹھا۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ ان ناموں میں کچھ ایسے افسران بھی شامل تھے جو بظاہر ایماندار سمجھے جاتے تھے۔ مگر جب صرف ایک جملہ “سرکاری دلال” لکھا گیا تو سچ برداشت نہ ہو سکا۔ دھمکیاں ملیں، دباؤ آیا، اور پھر خاموشی چھا گئی۔ یہ خاموشی سب سے خطرناک ہے۔ کیونکہ جب معاشرہ برائی کو جرم کے بجائے “سسٹم” سمجھنے لگے تو پھر نسلیں تباہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ آج اگر سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کی قیادت میں سرجیکل آپریشن سے پنجاب میں سنگین جرائم کے خلاف کامیاب آپریشنز ہو سکتے ہیں، اگر ریپسٹ شوٹرز جنسی جرائم میں ملوث اور ڈاکوؤں، گاڑی چور گینگز اور ڈرگ ڈیلرز کا خاتمہ ممکن ہے، تو پھر اخلاقی جرائم کے ان مراکز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کیوں نہیں ہو سکتی؟ لاہور پولیس کے موجودہ ڈی آئی جی فیصل۔ کامران جو ایک مضبوط اعصاب اور ایماندار افسر سمجھا جاتا ہے۔ اگر وہ اس ناسور کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو صرف ایک دھندہ بند نہیں ہوگا بلکہ اس سے جڑے کئی جرائم خود بخود دم توڑ جائیں گے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اگر نئی نسل کو بچانے کیلئے اس معاملے کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیں تو یہ صرف ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب ہوگا۔ کیونکہ قومیں سڑکوں اور پلوں سے نہیں، اپنے نوجوانوں کے کردار سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور اگر آج بھی ہم نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی

    Related Posts

    چوہدری سلطان حیدر علی خان کا سیف سٹی چکوال کا اچانک دورہ

    ڈسٹرکٹ پبلک سکول چکوال کی طالبہ  کی  راولپنڈی بورڈ کے میٹرک امتحان میں تیسری پوزیشن  

     نوجوان کوزہر دے کر مار  دیاگیا ، مقتول کے والد کی انصاف کی اپیل

    مقبول خبریں

     نوجوان کوزہر دے کر مار  دیاگیا ، مقتول کے والد کی انصاف کی اپیل

    شادی کا جھانسہ دے کرلے جانے والے کا خاتون پرتشدد،گھرسے نکال دیا

    معاشی بحالی کیلئے سٹریٹجک پروجیکٹس کا آغاز،نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے:چیف سیکرٹری بلوچستا ن

    وکلاء کو جدید سہولیات کی فراہمی اور عدالتی نظام کی بہتری وقت کی اہم ضرورت ،عالیہ نیلم

    بااثرافراد کامخالف کے گھرپردھاوا،اہلخانہ پرتشدد،پولیس ملزموں سے مل گئی

    بلاگ

    اور:- یہ نمبروں کی دوڑ ، کہیں تعلیم کا زوال تو نہیں

    بیٹی کی ہاتھ میں قرآن اٹھاکرتحفظ کی فریاد،قانون حرکت میں نہ آیا،باپ قتل

    ”اعلیٰ افسران سے کانسٹیبل تک ڈرگ ٹیسٹ کا مطالبہ“

    ”غازی آباد سے اٹھی چنگاری، کیا پنجاب پولیس میں احتساب کا طوفان آئے گا ؟“

    گاذر قبیلے کا فخر حافظ محمد رفیق گاذر شہید وطن پر قربان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.