Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    آئندہ چند ہفتے پنجاب پولیس کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن قرار،سربراہ لاہور پولیس کی ممکنہ تبدیلی، سہیل ظفر چھٹہ سی سی پی او ؟نیا آئی جی پنجاب کون ؟ پنجاب میں نئی صف بندی سے بہت سے بااثر افسران تبادلہ کروا سکتے ہیں!

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    عیدالاضحیٰ کے بعد پنجاب پولیس میں متوقع بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیوں اور تبادلوں کی اطلاعات نے نہ صرف پولیس بیوروکریسی بلکہ سیاسی و انتظامی حلقوں میں بھی غیر معمولی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ لاہور سمیت صوبے کے اہم اضلاع، اسپیشل یونٹس اور حساس عہدوں پر نئی تعیناتیوں کے حوالے سے جاری قیاس آرائیاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ آنے والے ہفتے پنجاب پولیس کے طاقت کے توازن کو بی حد تک تبدیل کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تبادلوں اور تعیناتیوں کا عمل روایتی سییارٹی یا سیاسی سفارشات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ حکومت اور اعلیٰ پولیس قیادت فیلڈ پرفارمنس، جرائم پر کنٹرول، انتظامی صلاحیت، سیاسی دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت اور ادارہ جاتی ڈسپلن جیسے عوامل کو بھی اہم بنیاد بنا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے افسران، جو ماضی میں فیصلہ ساز دوڑ سے باہر تصور کیے جا رہے تھے، اب مضبوط امیدواروں کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس حلقوں میں سب سے زیادہ توجہ لاہور پولیس کی ممکنہ قیادت پر مرکوز ہے اطلاعات ہیں کہ گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں ترقی کے متوقع بورڈ میں آئی جی پنجاب عبدالکریم، سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ سمیت متعدد سینئر افسران زیر غور آئیں گے۔ اگر سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ گریڈ 22 میں ترقی پاتے ہیں تو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سی سی پی او لاہور کا عہدہ چھوڑ کر وفاق میں نیشنل پولیس اکیڈمی جیسے اہم ادارے کی سربراہی سنبھال سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کا نام بطور ممکنہ سی سی پی او لاہور نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔ پولیس کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر سہیل ظفر چٹھہ لاہور پولیس کی بھی کمان سنبھالتے ہیں تو موجودہ انتظامی ٹیم میں نمایاں ردوبدل ناگزیر ہو سکتا ہے۔ بعض افسران کے ممکنہ تبادلوں یا ازخود دوسری رینجز میں جانے کی چہ مگوئیاں بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب پولیس جیسے بڑے ادارے میں ہر نئی تعیناتی اپنے ساتھ ایک نئی انتظامی ترجیح، مختلف ورکنگ اسٹائل اور اختیارات کے نئے توازن کو جنم دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تبدیلی کو محض شخصیات کی جنگ یا گروپ بندی کے تناظر میں دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ کیا یہ تبدیلیاں پولیسنگ کے معیار، عوامی اعتماد اور جرائم کے کنٹرول میں بہتری لا سکیں گی یا نہیں۔ پنجاب پولیس کے اندرونی ذرائع یہ بھی اشارہ دیتے ہیں کہ اگر آئندہ تین ماہ میں موجودہ سی سی پی او لاہور کو آئی جی پنجاب کے منصب تک رسائی ملتی ہے اور موجودہ آئی جی پنجاب کا تبادلہ وفاق میں ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف لاہور تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے صوبے میں آر پی اوز، ڈی پی اوز اور اسپیشل برانچز کی نئی صف بندی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ بہت سے افسر بلال صدیق کمیانہ کے ساتھ کام کرنے پر خوش ہونگے تو کچھ انکے پروفیشنل ورکنگ سٹائل سے ناراض بھی ہوتے ہیں لیکن یہ فیصلہ بلال صدیق کمیانہ نے یا ایسے افسران نے ہی کرنا ہے۔ ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ ترین عہدوں پر تبدیلی کے بعد انتظامی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر ردوبدل ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ صورتحال سیاسی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ پنجاب میں پولیس محض ایک قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ سیاسی استحکام، انتظامی کنٹرول اور حکومتی عملداری کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو ہمیشہ سیاسی طاقت کے توازن سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اگر پنجاب کی بیوروکریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوتی ہیں تو اس کے اثرات صوبائی سیاست اور حکومتی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں اگر واقعی تقرریوں میں میرٹ، کارکردگی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو ترجیح دی گئی تو یہ پنجاب پولیس کے ادارہ جاتی استحکام کیلئے ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ پولیسنگ کا جدید ماڈل اب صرف طاقت یا تعلقات کے بجائے نتائج، ٹیکنالوجی، کرائم مینجمنٹ اور عوامی اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں حکومت کیلئے اصل چیلنج یہی ہوگا کہ وہ تبادلوں کو محض انتظامی روایت کے بجائے اصلاحات کے موقع میں تبدیل کر سکے۔ فی الحال تمام نظریں آئندہ چند ہفتوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی فیصلوں سے یہ واضح ہوگا کہ پنجاب پولیس روایتی طاقت کے مراکز کے ساتھ آگے بڑھے گی یا واقعی ایک نئی انتظامی سوچ کی طرف قدم بڑھانے جا رہی ہے۔

    Related Posts

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    جلال پور پیر والا: موٹرسائیکل کو بچا تے ہوئے گاڑی  نہر میں جا گيری

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.