آئندہ چند ہفتے پنجاب پولیس کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن قرار،سربراہ لاہور پولیس کی ممکنہ تبدیلی، سہیل ظفر چھٹہ سی سی پی او ؟نیا آئی جی پنجاب کون ؟ پنجاب میں نئی صف بندی سے بہت سے بااثر افسران تبادلہ کروا سکتے ہیں!
تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے عیدالاضحیٰ کے بعد پنجاب پولیس میں متوقع بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیوں اور تبادلوں کی اطلاعات نے نہ صرف پولیس بیوروکریسی بلکہ سیاسی و انتظامی حلقوں میں بھی غیر معمولی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ لاہور سمیت صوبے کے اہم اضلاع، اسپیشل یونٹس اور حساس عہدوں پر نئی تعیناتیوں کے حوالے سے جاری قیاس آرائیاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ آنے والے ہفتے پنجاب پولیس کے طاقت کے توازن کو بی حد تک تبدیل کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تبادلوں اور تعیناتیوں کا عمل روایتی سییارٹی یا سیاسی سفارشات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ حکومت اور اعلیٰ پولیس قیادت فیلڈ پرفارمنس، جرائم پر کنٹرول، انتظامی صلاحیت، سیاسی دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت اور ادارہ جاتی ڈسپلن جیسے عوامل کو بھی اہم بنیاد بنا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے افسران، جو ماضی میں فیصلہ ساز دوڑ سے باہر تصور کیے جا رہے تھے، اب مضبوط امیدواروں کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس حلقوں میں سب سے زیادہ توجہ لاہور پولیس کی ممکنہ قیادت پر مرکوز ہے اطلاعات ہیں کہ گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں ترقی کے متوقع بورڈ میں آئی جی پنجاب عبدالکریم، سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ سمیت متعدد سینئر افسران زیر غور آئیں گے۔ اگر سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ گریڈ 22 میں ترقی پاتے ہیں تو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سی سی پی او لاہور کا عہدہ چھوڑ کر وفاق میں نیشنل پولیس اکیڈمی جیسے اہم ادارے کی سربراہی سنبھال سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کا نام بطور ممکنہ سی سی پی او لاہور نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔ پولیس کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر سہیل ظفر چٹھہ لاہور پولیس کی بھی کمان سنبھالتے ہیں تو موجودہ انتظامی ٹیم میں نمایاں ردوبدل ناگزیر ہو سکتا ہے۔ بعض افسران کے ممکنہ تبادلوں یا ازخود دوسری رینجز میں جانے کی چہ مگوئیاں بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب پولیس جیسے بڑے ادارے میں ہر نئی تعیناتی اپنے ساتھ ایک نئی انتظامی ترجیح، مختلف ورکنگ اسٹائل اور اختیارات کے نئے توازن کو جنم دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تبدیلی کو محض شخصیات کی جنگ یا گروپ بندی کے تناظر میں دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ کیا یہ تبدیلیاں پولیسنگ کے معیار، عوامی اعتماد اور جرائم کے کنٹرول میں بہتری لا سکیں گی یا نہیں۔ پنجاب پولیس کے اندرونی ذرائع یہ بھی اشارہ دیتے ہیں کہ اگر آئندہ تین ماہ میں موجودہ سی سی پی او لاہور کو آئی جی پنجاب کے منصب تک رسائی ملتی ہے اور موجودہ آئی جی پنجاب کا تبادلہ وفاق میں ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف لاہور تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے صوبے میں آر پی اوز، ڈی پی اوز اور اسپیشل برانچز کی نئی صف بندی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ بہت سے افسر بلال صدیق کمیانہ کے ساتھ کام کرنے پر خوش ہونگے تو کچھ انکے پروفیشنل ورکنگ سٹائل سے ناراض بھی ہوتے ہیں لیکن یہ فیصلہ بلال صدیق کمیانہ نے یا ایسے افسران نے ہی کرنا ہے۔ ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ ترین عہدوں پر تبدیلی کے بعد انتظامی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر ردوبدل ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ صورتحال سیاسی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ پنجاب میں پولیس محض ایک قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ سیاسی استحکام، انتظامی کنٹرول اور حکومتی عملداری کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو ہمیشہ سیاسی طاقت کے توازن سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اگر پنجاب کی بیوروکریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوتی ہیں تو اس کے اثرات صوبائی سیاست اور حکومتی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں اگر واقعی تقرریوں میں میرٹ، کارکردگی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو ترجیح دی گئی تو یہ پنجاب پولیس کے ادارہ جاتی استحکام کیلئے ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ پولیسنگ کا جدید ماڈل اب صرف طاقت یا تعلقات کے بجائے نتائج، ٹیکنالوجی، کرائم مینجمنٹ اور عوامی اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں حکومت کیلئے اصل چیلنج یہی ہوگا کہ وہ تبادلوں کو محض انتظامی روایت کے بجائے اصلاحات کے موقع میں تبدیل کر سکے۔ فی الحال تمام نظریں آئندہ چند ہفتوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی فیصلوں سے یہ واضح ہوگا کہ پنجاب پولیس روایتی طاقت کے مراکز کے ساتھ آگے بڑھے گی یا واقعی ایک نئی انتظامی سوچ کی طرف قدم بڑھانے جا رہی ہے۔