واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘
امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ ’لہٰذا میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام پہلوؤں سے تیار اور مستعد رہا جائے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس لیے جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔‘
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔
وینس اس ماہ دوسری مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے تھے اور بدھ کے روز ان کی آمد متوقع تھی۔وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان اور امن مذاکرات سے متعلق تفصیلات وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہی جاری کی جائیں گی۔
امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان کی منسوخی کی یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی پاکستانی درخواست منظور کر لی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق معاملے میں مزید مہلت لینے کا فیصلہ کیا ہے۔منگل ابر بدھ کی درمیانی شب ان کے اعلان کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے انھوں نے وہ ڈیڈ لائن مؤخر کر دی ہے جو انھوں نے تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے دی تھی، بصورت دیگر بدھ کے روز جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔جنگ بندی میں توسیع کے ذریعے ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف دوبارہ شدید فضائی حملے شروع کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل نہیں کیا تاہم اس فیصلے نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں انھیں ایک بار پھر اسی فیصلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب یہ نہیں واضح کیا کہ نئی جنگ بندی کی مدت کتنی ہوگی، صرف یہ کہا کہ وہ ایران کو مزید وقت دے رہے ہیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’متحدہ تجویز‘ پیش کر سکے۔یہ دو ہفتوں میں دوسری بار ہے جب ٹرمپ نے جنگ میں اضافے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس تنازع کو ختم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

