نئی دہلی:بھارت اور برطانیہ کے درمیان ایک طویل مذاکراتی عمل کے بعد ’جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے‘ (CETA) پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ وزیر تجارت پیوش گوئل نے اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے۔
بھارت سے برطانیہ جانے والی تقریباً 99 فیصد اشیاء اب ٹیکس (کسٹم ڈیوٹی) سے مستثنیٰ ہوں گی، جس سے ٹیکسٹائل، چمڑے، اور انجینئرنگ کے شعبوں کو زبردست فروغ ملے گا۔
آئی ٹی انجینئرز اور ڈاکٹروں جیسے پیشہ ور افراد کو پانچ سال تک دوہرے ٹیکس سے استثنیٰ ملے گا، جس سے بھارتی کمپنیوں کے اخراجات میں کمی آئے گی۔انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، مالیاتی خدمات، اور تعلیمی شیکٹر میں کام کرنے والے افراد کے لیے برطانیہ کا سفر کرنا آسان ہو جائے گا۔
بھارت برطانوی گاڑیوں اور اشیاء پر ٹیکس بتدریج کم کرے گا، جس میں اسکاچ وہسکی پر ڈیوٹی 150 فیصد سے کم ہو کر 75 فیصد اور طویل مدت میں 40 فیصد رہ جائے گی۔چاکلیٹ، بسکٹ اور کاسمیٹکس جیسی اشیاء پر رعایتیں بتدریج نافذ کی جائیں گی۔ 30 ابواب پر مشتمل یہ معاہدہ ڈیجیٹل تجارت، مالیاتی خدمات اور ماحولیاتی تحفظ سمیت دیگر جدید شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔
یہ معاہدہ نہ صرف بڑی صنعتوں بلکہ چھوٹے صنعت کاروں اور کسانوں کے لیے بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات پہنچانے کے وسیع مواقع فراہم کرے گا۔
بھارت اور برطانیہ کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے؛ 99 فیصد ہندوستانی مصنوعات ڈیوٹی فری

