اسلام آباد +تہران+واشنگٹن+ریاض:خبر رساں ادارے روئٹرز نے پیر کو ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ فوری جنگی بندی کے لیے امریکا اور ایران کو ایک منصوبہ موصول ہوا ہے جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے لیے ایک فریم ورک پاکستان نے تیار کیا ہے اور راتوں رات ایران اور امریکا کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ اس میں دو مرحلوں پر مشتمل حکمتِ عملی شامل ہے: پہلے فوری جنگ بندی، جس کے بعد ایک جامع معاہدہ کیا جائے گا۔
ذرائع نے کہا کہ ’تمام نکات پر آج ہی اتفاق ضروری ہے‘ اور ابتدائی مفاہمت کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دی جائے گی، جسے پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طور پر حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ مذاکرات میں پاکستان واحد رابطہ ذریعہ ہے۔
اس سے قبل امریکی ویب سائٹ ایکسیو نے اتوار کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالث ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی پر بات کر رہے ہیں، جو دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے اور بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے تک لے جا سکتی ہے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پوری رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔
اس تجویز کے تحت فوری جنگ بندی نافذ ہو گی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
اس مجوزہ معاہدے کو عارضی طور پر ’اسلام آباد معاہدہ‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک شامل ہوگا اور حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔
امریکا اور ایران کے حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
ایرانی حکام اس سے قبل روئٹرز کو بتا چکے ہیں کہ تہران ایک مستقل جنگ بندی چاہتا ہے، جس کے ساتھ یہ ضمانت ہو کہ امریکا اور اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ایران کو پاکستان، ترکی اور مصر سمیت مختلف ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے وعدے کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہوگی۔
دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ سفارتی اور عسکری سطح پر کوششوں میں تیزی کے باوجود ایران نے تاحال حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی۔
ایک ذریعے نے کہا کہ ’ایران نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا‘، اور مزید بتایا کہ پاکستان، چین اور امریکا کی حمایت یافتہ عارضی جنگ بندی کی تجاویز پر بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
چینی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ تازہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں تنازع کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر جلد جنگ بندی نہ ہوئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
اس تنازع نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے، اور تاجر اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی پیش رفت آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔

