گوجرانوالہ : وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے اپنے ہی محکمے کے کرپٹ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے 4 افسران سمیت 8 افراد کے خلاف سنگین مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ان ملزمان پر شہریوں کو اغوا کرنے، رشوت لینے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔
ایف آئی اے سرکل گوجرانوالہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نامزد ملزمان میں سے اے ایس آئی شہروز اور اسٹاف افسر اللہ یار کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر روپوش ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مقدمے میں نامزد دیگر سرکاری اہلکاروں میں سب انسپکٹر امیر حمزہ اور مجاہد علی شامل ہیں، جبکہ ان کے چار نجی معاونین (فرنٹ مین) کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا گیا ہے۔
یہ کارروائی شہری مظفر اقبال کی مدعیت میں درج کرائی گئی درخواست پر عمل میں آئی۔ متاثرہ شہری کے مطابق سائبر کرائم ایجنسی کے ان افسران نے اس کے چار بیٹوں کو (جو آن لائن ٹریڈنگ سے وابستہ تھے) کرپٹو کرنسی کے غیر قانونی کاروبار کا الزام لگا کر اغوا کیا۔
مغوی نوجوانوں کی رہائی کے عوض ان کے اہل خانہ سے 5 کروڑ روپے بھاری رشوت کا مطالبہ کیا گیا۔مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے کی رقم وصول کرنے کے بعد ملزمان نے نوجوانوں کو رہا کیا۔ ایف آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے میں کالی بھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مفرور ملزمان حاجی وقار، عاصم محمود، عثمان اور نعمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور جلد ہی انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔

