میرٹھ :انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ کی ایک عدالت نے اپنے شوہر کے لرزہ خیز قتل اور لاش کو مسخ کرنے کے جرم میں مسکان نامی خاتون اور ان کے ساتھی ساحل شکلا کو سزائے موت سنا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ضلع جج اروند کمار نے کیس کی سماعت مکمل ہونے پر تقریباً ڈیڑھ سال بعد یہ فیصلہ سنایا۔ دونوں مجرم جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے اور فیصلہ سنائے جانے کے وقت خاموش رہے۔
استغاثہ کے وکیل وجے بہادر کے مطابق عدالت نے قتل کے جرم میں دونوں کو سزائے موت سنائی ہے اور ساتھ ہی 20 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ جُرم چھپانے اور ثبوت مٹانے جیسی دیگر دفعات کے تحت دونوں کو مزید سات سال قید کی سزا بھی دی گئی ہے۔
یہ سنسنی خیز معاملہ مارچ 2025 میں سامنے آیا تھا جب 29 سالہ سوربھ راجپوت، جو کہ لندن میں مقیم تھے اور فروری 2025 میں انڈیا واپس آئے تھے، اچانک پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے۔ سوربھ کے بڑے بھائی راہول نے پولیس سے رجوع کرتے ہوئے گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔
پولیس کی تفتیش کے دوران اے ایس پی میرٹھ آیوش وکرم سنگھ نے بتایا کہ شک کی بنیاد پر سوربھ کی 28 سالہ بیوی مسکان اور اس کے دوست ساحل کو شاملِ تفتیش کیا گیا۔ کڑی پوچھ گچھ پر دونوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے 3 مارچ کو سوربھ کو قتل کیا۔پولیس کے مطابق ملزمان نے لاش کے ٹکڑے ایک ڈرم میں رکھ کر اس میں کنکریٹ کا آمیزہ بھر دیا تھا تاکہ بدبو نہ پھیلے۔ پولیس نے ڈرم کو تحویل میں لے کر کٹر کی مدد سے کاٹا اور لاش کو برآمد کیا۔لرزہ خیز جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد دونوں ملزمان گھومنے پھرنے کے لیے شملہ، منالی اور کساولی روانہ ہو گئے تھے۔پسند کی شادی کا دردناک انجامسوربھ راجپوت اور مسکان نے سنہ 2016 میں خاندانوں کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کی تھی۔ سنہ 2019 میں ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی، تاہم چند سالوں بعد یہ شادی ایک دردناک اور لرزہ خیز انجام پر ختم ہوئی۔
شوہر کو قتل کرکے لاش کنکریٹ میں دفن کرنیوالی مسکان کو آشنا سمیت سزائے موت

