پرتگال کے کپتان اور عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ چھوڑنے اور ہیڈ کوچ جارج جیزس کے ساتھ پیدا ہونے والے کشیدہ تعلقات پر خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے ان تمام خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ انہوں نے انٹرنیشنل فٹبال کو خیرباد کہہ دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، ناروے کے خلاف میچ کے دوران پیدا ہونے والے تنازع کے بعد رونالڈو کیمپ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ رونالڈو نے ایک وضاحتی بیان میں بتایا کہ کوچ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ میچ کے دوسرے ہاف میں انہیں کم از کم 30 منٹ کے لیے میدان میں اتاریں گے۔ تاہم، ہاف ٹائم سے مسلسل وارم اپ کرنے کے باوجود کوچ نے انہیں میدان میں نہیں بھیجا، جسے انہوں نے اپنی ذات کے ساتھ مسلسل دوسری بار وعدہ خلافی قرار دیا۔رونالڈو کا کہنا تھا کہ کیمپ میں موجود رہنے سے ٹیم کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے، اس لیے انہوں نے مزید کسی تنازع سے بچنے کے لیے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے میچ ختم ہونے کے بعد شائقین کو مبارکباد دیے بغیر ڈریسنگ روم جانے کے اپنے عمل پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جذبات کی رو میں بہہ کر کی گئی یہ غلطی تمام تر ان کی اپنی ذمہ داری تھی۔ریٹائرمنٹ کے سوال پر 41 سالہ سٹار فارورڈ نے کہا:"اگر میں جسمانی طور پر فٹ ہوں، اپنے کلب کے لیے کھیل رہا ہوں اور گول کر رہا ہوں، تو معطلی یا کارروائی کی مدت ختم ہونے کے بعد میں قومی ٹیم کے لیے پہلے کی طرح ہمیشہ دستیاب رہوں گا۔”واضح رہے کہ کرسٹیانو رونالڈو پرتگال کے لیے 234 بین الاقوامی میچز میں 146 گول کر کے دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیشنل گول کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔
کوچ سے اختلافات اور قومی کیمپ چھوڑنے کے معاملے پر کرسٹیانو رونالڈو کا بیان؛ انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی تردید

