راولپنڈی :راولپنڈی میں تعینات ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) ہیڈکوارٹرز ملیحہ سحر نے اپنے شوہر کے خلاف گھریلو تشدد، ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے تھانہ ویمن میں باضابطہ مقدمہ درج کرا دیا۔پولیس نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر کے خاوند جواد علی کو گرفتار کرکے جیل بجھوا دیا ،ملزم جواد علی کو گرفتاری کے بعد عدالت پیش کیا گیا،عدالت نے ملزم کو14 روز کے لئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا۔
ملیحہ سحر کی مدعیت میں درج کی جانے والی ایف آئی آر کے متن کے مطابق دو بچوں کی والدہ اور کمشنر آفس کی اعلیٰ افسر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے اپنے شوہر کی طرف سے مسلسل جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کر رہی تھیں، 2 اکتوبر کی شام ان کے شوہر نے ان پر شدید تشدد کیا، ان کا موبائل فون چھین لیا اور انہیں کمرے میں محبوس کرکے بند کر دیا۔
مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم نے انہیں اپنے اہل خانہ سے رابطے، بچوں سے ملنے اور یہاں تک کہ ہنگامی صورتِ حال میں پولیس سے مدد لینے سے بھی سختی سے روک رکھا تھا، اس دوران انہیں جان سے مارنے اور بچوں کو شدید نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
ایڈیشنل ڈی سی ملیحہ سحر نے پولیس کو بتایا کہ انہیں اپنی جان اور جسمانی تحفظ کے حوالے سے شدید خطرات لاحق ہیں، لہذا انہوں نے قانون کے مطابق سخت کارروائی، اپنا طبی معائنہ کروانے اور جسم پر موجود زخموں کے شواہد محفوظ کرنے کی باقاعدہ درخواست کی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ تھانہ ویمن راولپنڈی پولیس نے متاثرہ افسر کی مدعیت میں فوری طور پر مقدمہ درج کر کے معاملے کی قانونی تفتیش شروع کر دی ہے، اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
طاقتور عہدے پر ہوتے ہوئے بھی مجبور،خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے شوہر پر مقدمہ درج کیوں کرایا?


