پولیس کی وردی ریاستی رٹ، عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کی علامت ہے، لیکن اس وردی کا حقیقی وقار وہ افسر بڑھاتا ہے جو خطرے کے وقت پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی جان داؤ پر لگا کر فرض ادا کرے۔ رانا فیضان انہی افسران میں شامل ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا عملی ثبوت دیا۔ 2024ء میں موجودہ ڈی پی او سرگودھا توقیر نعیم کی بطور ڈی پی او خوشاب تعیناتی کے دوران قائدآباد کے ایس ایچ او رانا فیضان کو خوشاب، میانوالی، بھکر اور دیگر علاقوں میں سرگرم خطرناک اشتہاری عناصر کے خلاف کارروائی کا حکم ملا۔ 13 اور 14 اگست 2024ء کی درمیانی شب پولیس مقابلے کے دوران بدنام زمانہ اشتہاری سیف اللہ چھدرو خیل اپنے چار خطرناک ساتھیوں سمیت ہلاک ہوا۔ مقابلے میں کانسٹیبل ضیاء اختر شہید ہوئے، جبکہ ایس ایچ او رانا فیضان اور کانسٹیبل جمشید زخمی ہوئے۔ رانا فیضان کے جسم میں پانچ گولیاں لگیں، مگر وہ فرض سے پیچھے نہیں ہٹے۔ زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرنے کے بعد وہ دوبارہ اپنی ذمہ داریوں پر واپس آئے۔ پنجاب پولیس نے ان کی بہادری کے اعتراف میں انہیں ’’غازی‘‘ کا اعزاز دیا، جبکہ پانچ لاکھ روپے کی امدادی رقم بھی ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ تاہم غازی رانا فیضان کی داستان ایک اہم ادارہ جاتی پہلو بھی سامنے لاتی ہے۔ ان کی بہادری کے اعتراف میں قائداعظم پولیس میڈل (QPM) دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، مگر اطلاعات کے مطابق یہ اعزاز تاحال انہیں باضابطہ طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ کسی ایک افسر کے اعزاز تک محدود نہیں۔ پولیس فورس کا مورال اس احساس سے بنتا ہے کہ قربانی دینے والے افسر کو ادارہ صرف آپریشن کی کامیابی تک یاد نہیں رکھتا بلکہ اس کے زخم، قربانی اور خدمات کو بھی پوری طرح تسلیم کرتا ہے۔ پانچ گولیاں کھانے والے افسر کے لیے اعزاز کا بروقت اور باوقار انداز میں پیش کیا جانا پوری فورس کے لیے یہ واضح پیغام ہوتا ہے کہ ریاست اپنے محافظوں کی قربانی کو فراموش نہیں کرتی۔ اسی طرح غازی افسران کے علاج، مالی معاونت، شہداء اور زخمی اہلکاروں کے خاندانوں کی فلاح، پیشہ ورانہ ترقی اور اعزازات کی بروقت تکمیل کو محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ محکمانہ ترجیح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک جوان جب دیکھتا ہے کہ خطرناک ترین آپریشن میں زخمی ہونے والا اس کا سینئر مکمل ادارہ جاتی احترام حاصل کر رہا ہے تو اس کے اندر فرض شناسی، جرأت اور قربانی کا جذبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔رانا فیضان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر فرض ادا کیا، کانسٹیبل ضیاء اختر نے جان کا نذرانہ پیش کیا اور پوری پولیس ٹیم نے خطرناک عناصر کے خلاف کارروائی میں اپنا کردار ادا کیا۔ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چھٹہ نے رانا فیضان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرأت اور فیلڈ تجربے پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں سی سی ڈی خوشاب میں اہم ذمہ داری سونپی۔ یہ ایک بہادر افسر کی صلاحیتوں پر ادارہ جاتی اعتماد کا اظہار ہے اور اس بات کی علامت بھی کہ مشکل محاذوں پر ایسے افسران کی ضرورت ہوتی ہے جو خطرے کے سامنے فیصلہ کرنے اور اپنی ٹیم کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں
ایسے واقعات پولیس فورس کی قربانیوں کی روشن مثالیں ہیں جنہیں محض چند سطروں کی تعریفی رپورٹ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ غازی رانا فیضان جیسے افسران محکمہ پولیس کا اثاثہ ہیں۔ ان کی بہادری کو تسلیم کرنا صرف ایک افسر کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ پوری فورس کو یہ یقین دلانا ہے کہ ریاست کے لیے قربانی دینے والوں کی قربانی ریاست کی نظر میں اہم ہے۔ قائداعظم پولیس میڈل کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے؛ اب اس اعزاز کو باقاعدہ طور پر غازی رانا فیضان کے سینے پر سجانا اس قربانی کے اعتراف کو مکمل کرے گا۔ یہ اقدام نہ صرف ایک بہادر افسر کی حوصلہ افزائی ہوگا بلکہ پوری پولیس فورس کے مورال کے لیے بھی ایک مضبوط، مثبت اور باوقار پیغام ثابت ہوگا
”ریاست کے لیے پانچ گولیاں، بدلے میں 5 لاکھ؛ غازی رانا فیضان ریاستی اعزاز کے منتظر“

