تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب پولیس میں موجود بدعنوان عناصر کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ پولیس ٹریننگ سنٹر چوہنگ میں کرپشن کی انکوائری رپورٹ کے بعد سابق کمانڈنٹ محبوب اسلم للہ کو او ایس ڈی کرنے کے بعد امن و امان سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ کرپشن کے حوالے سے بدنام پولیس افسران کو ایس ایچ او تعینات نہ کیا جائے اور بدعنوان عناصر کی چھانٹی کرکے ایک ہفتے کے اندر کارروائی کی جائے۔ یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پنجاب پولیس میں کرپشن اور جرائم پیشہ عناصر سے مبینہ روابط کے حوالے سے رپورٹس اور شواہد پہلے ہی محکمانہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی سابق آئی جی پنجاب کی جانب سے صوبے بھر میں مبینہ طور پر کرپٹ افسران اور اہلکاروں کی فہرستیں شواہد سمیت طلب کی گئی تھیں۔ اس عمل میں مختلف انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس سے بھی مدد لی گئی، جس کے نتیجے میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے ایسے افسران اور اہلکاروں کے نام سامنے آئے جن کے بارے میں مبینہ طور پر منشیات فروشوں، قمار بازوں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد سے روابط کی اطلاعات اور شواہد موجود تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان رپورٹس میں بعض ایس ایچ اوز اور ان کے قریبی اہلکار بھی شامل تھے۔ متعلقہ اضلاع کو بعض کیسز میں رپورٹس اور دستیاب شواہد فراہم کیے گئے تاکہ محکمانہ سطح پر انکوائری اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں متعدد اہلکاروں کے خلاف انکوائریاں شروع ہوئیں اور بعض کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ بعض ایسے افسران جن کے نام مختلف رپورٹس میں سامنے آئے، بعد ازاں ریٹائر بھی ہوگئے، کچھ دیگر معاملات میں معطل یا گرفتار ہوئے، جبکہ بعض آج بھی مختلف فیلڈ پوسٹنگز یا اہم دفتری ذمہ داریوں پر موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح سابق دور میں بعض افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی اور سزاؤں کے باوجود انہیں نہ صرف ترقیاں دی گئیں بلکہ اہم پوسٹنگز بھی ملتی رہیں۔ یہی صورتحال پولیس کے احتسابی نظام پر بنیادی سوالات پیدا کرتی ہے۔
پولیس کے اندر ایک بڑی شکایت یہ بھی سامنے آتی رہی ہے کہ بعض تھانوں کو مطلوبہ سرکاری وسائل دستیاب نہ ہونے کے باعث روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے غیر رسمی ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں نچلے درجے کے اہلکاروں پر غیر قانونی مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ شہریوں اور جرائم پیشہ عناصر پر منتقل ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سی سی ڈی کے یونٹس کو آپریشنل ضروریات کے لیے نسبتاً بہتر مالی وسائل دستیاب ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے۔ اس فرق کا بھی شفاف طریقے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اس صورتحال پر ایک پولیس افسر نے رابطہ کرکے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر بدعنوان ایس ایچ اوز کے خلاف تحقیقات ہونی ہیں تو ان کے اوپر موجود افسران کی نگرانی اور ذمہ داری کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ افسر کے مطابق ایس ایچ او کی تعیناتی، تھانے کے اخراجات، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن اور دیگر آپریشنل ضروریات کے لیے مطلوبہ وسائل کی دستیابی بھی اہم معاملہ ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور کسی افسر یا ادارے کو محض الزام کی بنیاد پر قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری جانب سی پی او راولپنڈی،آر پی او فیصل آباد آر پی او گوجرانوالہ، آر پی او ساہیوال، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور ڈی پی اوز گجرات، قصور اور اٹک سمیت بعض پولیس افسران کی جانب سے احتسابی عمل تیز کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض اردل رومز میں محکمانہ غفلت اور خلافِ ضابطہ اقدامات پر اہلکاروں کے خلاف سخت سزائیں بھی دی جا رہی ہیں۔
اب وزیراعلیٰ پنجاب کا ایک ہفتے میں بدعنوان عناصر کی چھانٹی کا حکم اس پورے معاملے کو دوبارہ مرکزِ توجہ میں لے آیا ہے۔ آئی جی پنجاب عبدالکریم کے ایک جامع حکم پر محکمانہ رپورٹس، انٹیلی جنس معلومات، سابقہ انکوائریوں، شوکاز نوٹسز اور دیگر دستیاب ریکارڈ کو ایک جگہ جمع کرکے غیرجانبدارانہ اسکریننگ کی جائے تو ایسے افسران اور اہلکاروں کی نشاندہی مشکل نہیں ہوگی جن کے خلاف پہلے ہی مختلف سطحوں پر مواد موجود ہے۔ ضرورت صرف فہرستیں بنانے کی نہیں بلکہ فہرستوں کو قانون کے مطابق کارروائی تک پہنچانے کی ہے۔ اگر کسی پولیس افسر کے خلاف جرائم پیشہ عناصر سے روابط، اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن یا غیر قانونی سرگرمیوں میں معاونت کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں تو اس کے خلاف قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی طرح کسی افسر کو محض الزام کی بنیاد پر سزا دینا بھی درست نہیں؛ ہر معاملے میں شواہد، انکوائری اور قانونی تقاضوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
اسی تناظر میں ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کے ذریعے ایسے افسران کے اثاثوں اور ان کے جائز ذرائع آمدن کا قانونی طریقہ کار کے تحت جائزہ بھی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ جہاں قانوناً دستیاب ریکارڈ موجود ہو، وہاں موجودہ اثاثوں کا موازنہ ڈکلیئرڈ ذرائع آمدن اور مالی ریکارڈ سے کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر قانونی طریقہ کار کے مطابق خاندانی اثاثوں اور مالی معاملات کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ یہی عمل کرپشن کے خلاف کارروائی کو محض الزامات کے بجائے دستاویزی بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔ اصل امتحان اب آئی جی پنجاب عبدالکریم کا ہے۔ وزیراعلیٰ کا حکم واضح ہے، مدت بھی مقرر ہے اور محکمانہ ریکارڈ بھی موجود ہے۔ پنجاب بھر سے متعلقہ فہرستیں اور رپورٹس طلب کرکے ایک جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جا سکتا ہے، جس میں ہر افسر کے خلاف موجود شکایات، انکوائریاں، محکمانہ کارروائیاں، انٹیلی جنس رپورٹس اور دستیاب شواہد کو الگ الگ جانچا جائے۔
اگر اس بار کارروائی واقعی میرٹ، شواہد اور قانون کی بنیاد پر ہوئی اور کسی عہدے، تعلق یا اثرورسوخ کو رکاوٹ نہ بننے دیا گیا تو یہ پنجاب پولیس کے اندر احتساب کے عمل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔
پولیس کی اصلاح صرف نئے افسر تعینات کرنے سے نہیں ہوگی۔ اصل اصلاح اس وقت شروع ہوگی جب ایک ایماندار اہلکار کو یقین ہو کہ اس کی دیانت داری اس کے لیے نقصان نہیں بنے گی، جبکہ بدعنوانی کسی افسر کے لیے ترقی، اہم پوسٹنگ یا سرپرستی کا راستہ نہیں بن سکتی۔
وزیراعلیٰ کا ایک ہفتے کا حکم اب ایک معمول کی سرکاری ہدایت نہیں بلکہ پنجاب پولیس کے احتسابی نظام کے لیے ایک عملی امتحان بن چکا ہے۔ ریکارڈ موجود ہے، رپورٹس موجود ہیں، شواہد موجود ہیں؛ اب ضرورت صرف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی ہے
”کرپشن الزامات،خفیہ رپورٹس اور محکمانہ ریکارڈ؛ آئی جی پنجاب کے حکم پر سب بدل سکتا ہے لیکن ؟“


