تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ڈاکٹر ثمینہ گل کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ وہ شجرِ شاعری کی ایک تازہ اور شگفتہ شاخ ہیں، جن کی خوشبو نے شعری ذوق رکھنے والے بے شمار لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ وہ ایک معروف شاعرہ اور ادبی نقاد ہیں۔ چند برس قبل ان کی اردو شاعری کی کتاب ’’دیدم‘‘ شائع ہوئی تھی۔ انہوں نے اس کتاب پر میری رائے طلب کی تھی۔ میں نے اس حوالے سے جو کالم تحریر کیا، وہ بعدازاں میری اردو کالموں کی کتاب ’’ادبی تبصرے‘‘ میں شامل ہوا۔ اس کتاب میں ان معاصر ادیبوں اور شاعروں کی کتب کے دیباچے، پیش لفظ اور تبصرے شامل ہیں جنہوں نے اپنی تصانیف پر میری رائے طلب کی تھی۔ یہ کتاب حال ہی میں نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، وزارتِ وفاقی تعلیم، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے۔
ڈاکٹر ثمینہ گل کی حالیہ شائع ہونے والی کتاب ’’زمین کا مذہب‘‘ آزاد نظم، نثری نظم اور نظمِ معریٰ کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے اس کتاب پر انگریزی زبان میں میری رائے طلب کی ہے۔ غالباً ان کا مقصد اس کتاب کو انگریزی داں طبقے سے بھی متعارف کرانا ہے۔
میں نے اس کتاب کا نہایت توجہ اور دلچسپی سے مطالعہ کیا ہے۔ یہ کتاب ایک انتہائی حساس روح کے جذباتی، اصلاحی اور فکری اظہار کا حسین امتزاج ہے۔ ’’زمین کا مذہب‘‘ ایک عجیب، گونج دار اور پُرجوش صدا کی علامت ہے جو قاری کو چونکا دیتی اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ شاعرہ کے نزدیک زمین اور اس کے باسیوں کا حقیقی مذہب محبت، آزادی، ہمدردی، انصاف اور اخوت ہے۔ یہ ایک نہایت فکر انگیز عنوان ہے۔
مذہب سے مراد عقیدہ، مسلک، دین یا ایمان بھی لیا جاتا ہے۔ لفظ Religion لاطینی زبان کے لفظ ’’Religio‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے مفاہیم میں رکاوٹ یا ترک شامل ہیں۔ تاہم، اس کتاب کے عنوان سے شاعرہ کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ زمین ہی وہ حقیقی مقام ہے جہاں انسان کو زندگی گزارنی اور محبت کرنی چاہیے۔ زمین ایک مقدس پناہ گاہ کی مانند ہے، جو تمام انسانوں کے لیے امن، پاکیزگی، خوشی اور خوش حالی کا مسکن ہے۔ زمین مقدس ہے اور ایک شفیق ماں کی طرح پرورش کرنے والی ہے۔ مادروطن کا تصور ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ ہم بلاامتیاز پوری زمین اور اس کے تمام باسیوں سے محبت اور احترام کریں۔
معروف امریکی شاعر رابرٹ فراسٹ بھی زمین کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ زمین ہی رہنے اور محبت کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔
اس کتاب میں ڈاکٹر ثمینہ گل محبت، زندگی، انصاف، ہم آہنگی، انسانیت، اخوت، عالمگیریت، مساوات اور خوش حالی کی نقیب بن کر سامنے آتی ہیں۔ وہ انسانی زندگی کے لیے مثبت اور ترقی پسند ذرائع و طریقِ زیست کی تجویز اور ترجمانی کرتی ہیں۔
ان نظموں کی زبان نہایت سادہ، شگفتہ اور دل نشیں ہے۔ بعض نظمیں نظمِ معریٰ میں ہیں، کچھ آزاد نظم کی صورت میں اور بعض نثری نظم کے قالب میں، تاہم ان سب میں شعری موسیقیت اور ردھم کا بہاؤ نہایت عمدگی سے برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ مختصر مگر جامع نظمیں ہیں جو اپنی دلکش منظر نگاری اور اثر انگیزی کے ذریعے قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ تشبیہات اور استعارات فطری، خوب صورت اور دل آویز ہیں۔
اس کتاب کی تمام نظموں کا مرکزی موضوع معاشرے کے مختلف طبقات میں خوشی، امن اور ہم آہنگی کی تلاش ہے۔ تمام انسان ایک ہی برادری اور ایک ہی خاندان کی مانند ہیں۔ زمین کے باسیوں کا تحفظ اور سلامتی ہی وہ حقیقی مذہب ہے جسے اختیار، اپنایا اور عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔
کتاب میں بعض نظمیں ادبی شخصیات کے بارے میں بھی ہیں جن میں فیض احمد فیض، ناصر کاظمی اور ن۔م۔ راشد جیسی شخصیات کو ان کی ادبی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ ہر نظم اپنے اندر ایک خاص مفہوم اور پیغام رکھتی ہے، تاہم چند نظموں کا ذکر ان کے آفاقی پیغام اور انسانی مقصد کے حوالے سے ضروری ہے۔
خصوصاً ’’زمین کا مذہب‘‘ اور ’’زمین کی کہانیاں‘‘ وہ نمائندہ نظمیں ہیں جو اس کتاب کے بنیادی پیغام کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔ ان دونوں نظموں میں ایک طرف سرسبز و شاداب میدانوں، سطح مرتفع، چشموں، آبشاروں، پہاڑوں اور قدرتی حسن سے مزین زمین کے دلکش مناظر پیش کیے گئے ہیں، تو دوسری طرف محروم اور مظلوم انسانوں کی بے بسی، اضطراب، مایوسی، دکھ، درد، تکلیف، پریشانیوں اور مصیبتوں کی عکاسی کی گئی ہے، جو زندگی کے تاریک اور وحشت ناک صحراؤں اور تہہ خانوں میں گھٹن کا شکار ہیں۔
نظم ’’زمین کا مذہب‘‘ کے اختتامی اشعار، جو کتاب کا عنوان بھی ہیں، اس طرح ہیں:
کبھی زمین خوف زدہ لمحوں میں خود کو یوں سمیٹ لیتی ہے
جیسے سوگوار بیوہ کی گردن میں کوئی ہار اس کی اداسی کو نمایاں کر رہا ہو۔
بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ زمین نوحہ کناں دکھائی دیتی ہے
اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے غم کے تاروں پر رقص کر رہی ہو۔
صرف زمین ہی اپنے اندر پیوست گہرے دکھ کو جانتی ہے،
خواہ وہ عاشقوں کے وصال کا زمانہ ہو
یا کسی غم زدہ روح کی بیوگی کا اذیت ناک وقت۔
’’چنار سوکھے‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی نظم اپنے انقلابی تناظر کے اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ ایک دوسری نظم میں شاعرہ نے ان کشمیریوں کی مصیبتوں اور دکھوں کو بیان کیا ہے جو تقسیمِ ہند کے وقت کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ چنار کا پتہ کشمیری ثقافت کی ایک علامت ہے جو زمین کے سینے سے پھوٹنے والے شعلے کی نمائندگی کرتا ہے۔
ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا تھا:
جس خاک کے خمیر میں ہو آتشِ چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
یعنی جس مٹی کے خمیر میں چنار کی آگ شامل ہو، اس مقدس اور قیمتی مٹی کے شعلے کبھی سرد نہیں ہو سکتے۔
سوکھے ہوئے چنار کے پتے زمین پر خزاں کی علامت ہیں اور علامتی طور پر زندگی کی افسردہ خزاں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ شاعرہ ایسے تازہ اور حیات بخش موسم کی خواہش مند ہیں جو مردہ ذروں میں نئی روح پھونک دے۔ وہ ایسی بہار کی آرزو کرتی ہیں جو زمین کو رحمت، خوشی، مسرت، محبت، زندگی، ہمدردی، آسودگی، انصاف، امن، اخوت، انسانیت اور خوش حالی سے بھر دے۔
کتاب میں کشمیر کے موضوع پر بھی ایک جامع نظم شامل ہے، جو نہایت دل گداز اور درد انگیز ہے۔ اس نظم میں شاعرہ نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی قابض افواج کی جانب سے مسلسل ڈھائے جانے والے مظالم اور ناقابلِ بیان مصائب کو بیان کیا ہے۔ اپنی مادرِ وطن سے ان کی محبت انتہائی گہری اور دل میں جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ ان منفی اقدار کو بھی مسترد کرتی ہیں جنہوں نے انسان کی خوب صورتی اور تقدس کو مسخ کر دیا ہے۔ وہ نفرت، غصے، کشمکش، مذموم عزائم اور معاشرتی ناانصافی کو رد کرتی ہیں۔
ان کی شاعری ایک دو دھاری تلوار ہے؛ ایک طرف اس میں رومانویت ہے تو دوسری طرف انقلاب کی للکار بھی۔
’’خودی‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی نظم میں شاعرہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر عزتِ نفس اور خود شناسی کا واضح پیغام دیتی ہیں۔ یہ نظم پسماندہ اور دبے ہوئے طبقات کے لیے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنے کی ایک توانا پکار ہے۔ یہ انسانی روح کو عزم، استقلال اور پختہ ارادے کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
ڈاکٹر علامہ اقبال فلسفۂ خودی کے حوالے سے پوری دنیا میں معروف ہیں۔ انہوں نے زوال پذیر انسانوں کے پیکروں میں خود شناسی کی روح پھونکی اور انہیں عزت و خودداری کے اسرار سے آشنا کیا۔ فارسی زبان میں ان کی دو عظیم کتابیں ’’اسرارِ خودی‘‘ اور ’’رموزِ بے خودی‘‘ خودی کی معرفت اور شعور کے موضوع پر گراں قدر سرمایہ ہیں۔
ڈاکٹر ثمینہ گل بھی مشرق کے شاعر ڈاکٹر علامہ اقبال کے فلسفیانہ اور انقلابی مشن سے متاثر دکھائی دیتی ہیں۔
جدید وجودیت پسند مفکرین میں ژاں پال سارتر ایک معروف نام ہیں، جنہوں نے وجودیت کے فلسفے کو فروغ دیا۔ اس فلسفے میں فردیت، انسانیت اور آزادی کو قبول کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
ہر نظریہ ساز اور ہر صاحبِ فکر انسان ایک ایسے مسیحا کی تلاش میں رہتا ہے جو انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔ شاعرہ کی نظم ’’مسیحا‘‘ اپنے پیغام کے اعتبار سے نہایت توانا نظم ہے۔ انجیلِ متی کے مطابق مسیحا نے کوڑھیوں کو شفا دی، نابینا لوگوں کی بینائی بحال کی اور مردوں کو زندگی عطا کی۔ ادب میں مسیحا اس شخص کو کہا جاتا ہے جو انسانوں کو دکھوں اور مصیبتوں سے نجات دلائے۔
ڈاکٹر ثمینہ گل بھی ایسے ہی ایک مسیحا کی تلاش میں ہیں جو زمین کو تمام سماجی اور روحانی بیماریوں سے پاک کر دے۔ تمام اہلِ ضمیر اور اہلِ شعور انسانوں کی طرح وہ بھی زمین پر جنت کے قیام کی خواہش اور آرزو رکھتی ہیں، اور یہی ’’زمین کا مذہب‘‘ ہے۔
کتاب میں ’’قائد‘‘ کے عنوان سے دو نظمیں شامل ہیں۔ شاعرہ نے پاکستان کے بانی، قائداعظم محمد علی جناح کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، جو ایک بے لوث اور عظیم رہنما تھے۔ وہ قوم کے لیے قائداعظم کے دیے گئے سنہری اصولوں کو معاشرتی برائیوں سے نجات کا ایک مؤثر نسخہ قرار دیتی ہیں۔
ایک اور نظم ’’قصور‘‘ میں شاعرہ نے ایک کم سن بچے کی کسمپرسی اور بدحالی کو موضوع بنایا ہے، جو کبھی کسی ریستوران میں برتن دھوتا ہے، کبھی گاڑیاں صاف کرتا ہے اور کبھی گندگی کے ڈھیروں اور ملبے سے کاغذ کے ٹکڑے چنتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں ہونے والی ناانصافی کی شکایت کرتا اور اپنی بدقسمتی پر نوحہ کناں ہے۔ اس کی شدید خواہش ہے کہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح طالب علم بنے اور زندگی میں عزت و وقار حاصل کرے۔
یہ نظم سرمایہ دارانہ نظام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ شاعرہ اس نظم کے ذریعے سماجی انصاف کی آرزو اور ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔
کتاب میں ’’پیاس‘‘، ’’محبت‘‘، ’’آنسو‘‘، ’’چاندنی‘‘ اور ’’زندگی‘‘ سمیت کئی دیگر نظمیں بھی شامل ہیں جو زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں۔
مختصراً، یہ شعری مجموعہ اردو ادب میں ایک خوب صورت اضافہ ہے۔ یہ ناانصافیوں کے خلاف ایک بلند اور توانا آواز بھی ہے اور ان لوگوں کے لیے نعمت اور باعثِ خیر بھی جو انسانی اقدار، محبت، امن، انصاف اور اخوت پر یقین رکھتے ہیں۔
میں ڈاکٹر ثمینہ گل کو اس بات پر مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ نظمیں صرف سیاہی سے نہیں بلکہ اپنے دل کے خون سے لکھی ہیں۔
فیض احمد فیض نے کہا تھا:
متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
آئیے! ہم ان زنجیروں اور بیڑیوں کو توڑ دیں اور زمین کو ایسی جنت بنا دیں جہاں انسان خوشی اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اور ہر قسم کے نسلی تعصبات، رنگ و نسل کے امتیاز اور مذہبی انتہا پسندی سے نجات حاصل کر سکیں۔


