Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مائیکروسافٹ ” اے آئی اور کلاؤڈ“ میں کام کرنیوالوں کی ہوش ربا تنخواہیں! آن لائن ڈیٹا لیک

      ویو کا نیا سمارٹ فون ’وی 80 لائٹ‘ لانچ: خصوصیات جانئیے!

      ایپل کا سب سے بڑا دھماکا: پہلا فولڈ ایبل ’آئی فون الٹرا‘ ستمبر میں آرہا ہے، مگر دو بڑے فیچرز سے محروم!

      چین کا قمری مشن ’چانگ ای-7‘ تاخیر کا شکار، لانچنگ کیوں ملتوی کی گئی !

      دنیا کے تیز ترین آدمی یوسین بولٹ کا ریکارڈ کس نے توڑا؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”ریاست کے لیے پانچ گولیاں، بدلے میں 5 لاکھ؛ غازی رانا فیضان ریاستی اعزاز کے منتظر“

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    پولیس کی وردی ریاستی رٹ، عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کی علامت ہے، لیکن اس وردی کا حقیقی وقار وہ افسر بڑھاتا ہے جو خطرے کے وقت پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی جان داؤ پر لگا کر فرض ادا کرے۔ رانا فیضان انہی افسران میں شامل ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا عملی ثبوت دیا۔ 2024ء میں موجودہ ڈی پی او سرگودھا توقیر نعیم کی بطور ڈی پی او خوشاب تعیناتی کے دوران قائدآباد کے ایس ایچ او رانا فیضان کو خوشاب، میانوالی، بھکر اور دیگر علاقوں میں سرگرم خطرناک اشتہاری عناصر کے خلاف کارروائی کا حکم ملا۔ 13 اور 14 اگست 2024ء کی درمیانی شب پولیس مقابلے کے دوران بدنام زمانہ اشتہاری سیف اللہ چھدرو خیل اپنے چار خطرناک ساتھیوں سمیت ہلاک ہوا۔ مقابلے میں کانسٹیبل ضیاء اختر شہید ہوئے، جبکہ ایس ایچ او رانا فیضان اور کانسٹیبل جمشید زخمی ہوئے۔ رانا فیضان کے جسم میں پانچ گولیاں لگیں، مگر وہ فرض سے پیچھے نہیں ہٹے۔ زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرنے کے بعد وہ دوبارہ اپنی ذمہ داریوں پر واپس آئے۔ پنجاب پولیس نے ان کی بہادری کے اعتراف میں انہیں ’’غازی‘‘ کا اعزاز دیا، جبکہ پانچ لاکھ روپے کی امدادی رقم بھی ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ تاہم غازی رانا فیضان کی داستان ایک اہم ادارہ جاتی پہلو بھی سامنے لاتی ہے۔ ان کی بہادری کے اعتراف میں قائداعظم پولیس میڈل (QPM) دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، مگر اطلاعات کے مطابق یہ اعزاز تاحال انہیں باضابطہ طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ کسی ایک افسر کے اعزاز تک محدود نہیں۔ پولیس فورس کا مورال اس احساس سے بنتا ہے کہ قربانی دینے والے افسر کو ادارہ صرف آپریشن کی کامیابی تک یاد نہیں رکھتا بلکہ اس کے زخم، قربانی اور خدمات کو بھی پوری طرح تسلیم کرتا ہے۔ پانچ گولیاں کھانے والے افسر کے لیے اعزاز کا بروقت اور باوقار انداز میں پیش کیا جانا پوری فورس کے لیے یہ واضح پیغام ہوتا ہے کہ ریاست اپنے محافظوں کی قربانی کو فراموش نہیں کرتی۔ اسی طرح غازی افسران کے علاج، مالی معاونت، شہداء اور زخمی اہلکاروں کے خاندانوں کی فلاح، پیشہ ورانہ ترقی اور اعزازات کی بروقت تکمیل کو محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ محکمانہ ترجیح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک جوان جب دیکھتا ہے کہ خطرناک ترین آپریشن میں زخمی ہونے والا اس کا سینئر مکمل ادارہ جاتی احترام حاصل کر رہا ہے تو اس کے اندر فرض شناسی، جرأت اور قربانی کا جذبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔رانا فیضان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر فرض ادا کیا، کانسٹیبل ضیاء اختر نے جان کا نذرانہ پیش کیا اور پوری پولیس ٹیم نے خطرناک عناصر کے خلاف کارروائی میں اپنا کردار ادا کیا۔ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چھٹہ نے رانا فیضان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرأت اور فیلڈ تجربے پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں سی سی ڈی خوشاب میں اہم ذمہ داری سونپی۔ یہ ایک بہادر افسر کی صلاحیتوں پر ادارہ جاتی اعتماد کا اظہار ہے اور اس بات کی علامت بھی کہ مشکل محاذوں پر ایسے افسران کی ضرورت ہوتی ہے جو خطرے کے سامنے فیصلہ کرنے اور اپنی ٹیم کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں
    ایسے واقعات پولیس فورس کی قربانیوں کی روشن مثالیں ہیں جنہیں محض چند سطروں کی تعریفی رپورٹ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ غازی رانا فیضان جیسے افسران محکمہ پولیس کا اثاثہ ہیں۔ ان کی بہادری کو تسلیم کرنا صرف ایک افسر کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ پوری فورس کو یہ یقین دلانا ہے کہ ریاست کے لیے قربانی دینے والوں کی قربانی ریاست کی نظر میں اہم ہے۔ قائداعظم پولیس میڈل کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے؛ اب اس اعزاز کو باقاعدہ طور پر غازی رانا فیضان کے سینے پر سجانا اس قربانی کے اعتراف کو مکمل کرے گا۔ یہ اقدام نہ صرف ایک بہادر افسر کی حوصلہ افزائی ہوگا بلکہ پوری پولیس فورس کے مورال کے لیے بھی ایک مضبوط، مثبت اور باوقار پیغام ثابت ہوگا

    Related Posts

    ”کرپشن الزامات،خفیہ رپورٹس اور محکمانہ ریکارڈ؛ آئی جی پنجاب کے حکم پر سب بدل سکتا ہے لیکن ؟“

    انجمن رضائے مصطفی کے زیر اہتمام جشن عید میلاد النبیﷺ کا مرکزی جلوس

    عاشقانِ رسول ﷺ کی مختلف ریلیاں، اللہ والی چوک پر مرکزی اجتماع

    مقبول خبریں

    ”کرپشن الزامات،خفیہ رپورٹس اور محکمانہ ریکارڈ؛ آئی جی پنجاب کے حکم پر سب بدل سکتا ہے لیکن ؟“

    ”ریاست کے لیے پانچ گولیاں، بدلے میں 5 لاکھ؛ غازی رانا فیضان ریاستی اعزاز کے منتظر“

    سانحہ پمز: وفاقی سیکرٹری صحت معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل

    راہل گاندھی اداکارہ کریتی سینن کی حمایت میں میدان میں آ گئے

    غازی آباد تھانے میں زیادتی کیس، فرانزک رپورٹ آگئی ، اہم انکشاف

    بلاگ

    ”کرپشن الزامات،خفیہ رپورٹس اور محکمانہ ریکارڈ؛ آئی جی پنجاب کے حکم پر سب بدل سکتا ہے لیکن ؟“

    ڈاکٹر ثمینہ گل کی شعری کتاب ’’زمین کا مذہب‘‘ کے بارے ڈاکٹر مقصود جعفری کا تبصرہ

    سزا نہیں اصلاح: ایس ایچ او کاشف خان کا انقلابی اقدام

    تھل کی دھرتی پر کرکٹ کا ایک اور یادگار جشن

    سردار وہی ہے کہ جو سر دار پر لائے

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.