لاہور:وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کے سائبر کرائم ونگ (NCCIA) نے معروف پوڈ کاسٹر اور اینکر پرسن ریحان طارق کو لاہور ائیرپورٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کا نام پرووینشل نیشنل آئیڈنٹی فکیشن لسٹ (PNIL) میں شامل تھا،
ریحان طارق کو ملک سے جاتے ہوئے نہیں بلکہبرطانیہ سے واپسی پر امیگریشن حکام نے روکا۔
ذرائع کے مطابق ریحان طارق برطانیہ (UK) میں چھٹیاں گزارنے کے بعد رات گئے تقریباً 1:00 بجے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ کیے۔ جیسے ہی وہ امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچے، وہاں چیکنگ کے دوران انکشاف ہوا کہ ان کا نام پی این آئی ایل (PNIL) لسٹ میں درج ہے، جس کے تحت ان کے سفر کرنے پر عارضی پابندی عائد تھی۔ ایف آئی اے امیگریشن نے انہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا اور سائبر کرائم سرکل لاہور کو مطلع کیا۔
ائیرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریحان طارق کو ائیرپورٹ کے اندر تقریباً 5 گھنٹے تک روکے رکھا گیا۔ اس دوران سائبر کرائم ونگ (NCCIA) کی ٹیم ائیرپورٹ پہنچی اور صبح 6:00 بجے کے قریب ملزم کو ائیرپورٹ سے اپنے ساتھ لے گئی۔
گرفتاری کے وقت ریحان طارق کا مؤقف تھا کہ انہیں اپنے خلاف درج کسی مقدمے یا نوٹس کا پہلے سے علم نہیں تھا، تاہم وہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔
گرفتاری کی بنیادی وجہ اور الزامات
ابتدائی رپورٹس اور صحافتی حلقوں کے مطابق ریحان طارق کی گرفتاری کی وجہ ان کا ایک حالیہ ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ بنا ہے، جو انہوں نے معروف اسکالر علامہ جواد نقوی کے ساتھ ریکارڈ کیا تھا۔
متنازع مواد کا الزام: اس پوڈ کاسٹ کے دوران ایک ایسا سوال و جواب سامنے آیا جس پر شدید مذہبی تنازع کھڑا ہو گیا۔

