تہران :ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں تعاون کرنے والے ہر مقام کو اپنی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ تہران نے آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ وہی ہے جسے ایران نے مقرر کیا ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی غیر اعلانیہ دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں
BREAKING: Pakistan's interior minister makes unannounced visit to Tehran, IRNA reports
🔴 LIVE updates: https://t.co/JWAOO1YUSj pic.twitter.com/BNfujmN8Dw
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) May 16, 2026
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے بدھ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کی خودمختاری اور سرزمین کے خلاف کسی بھی کارروائی میں مدد فراہم کرنے والا ہر مقام ایرانی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف ہوگا۔
Khatam al-Anbiya Central Headquarters: Any source of support for the aggressor US military is a legitimate target for the Armed Forces. pic.twitter.com/Yxt1K8BvwM
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) July 8, 2026
بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جس کے بعد ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج امریکی حملوں کا فیصلہ کن جواب دیں گی اور کسی بھی صورت امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت یا اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام میں کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے گذشتہ رات اُنھیں بہت سخت نشانہ بنایا، بہت ہی سخت۔‘
President Trump speaks on Iran: "We hit them very hard last night… very, very hard, and we'll probably hit them hard again tonight…"
Watch OAN on OAN Live today for more updates. pic.twitter.com/mvvEM9SKUW
— One America News (@OANN) July 8, 2026
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ’شاید آج رات دوبارہ بھی سخت حملہ کرے گا‘۔ٹرمپ کے بقول، ’میں نے انھیں تھوڑی سی پیشگی وارننگ دی تھی، ہم آج رات پھر اُن پر سخت حملہ کرنے جا رہے ہیں۔‘
امریکی صدر نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو بھی سکے گا یا نہیں۔
جنگ بندی کے ’ختم‘ ہونے سے متعلق اپنے بیان کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ مکمل جنگ کا آغاز ہے، تو ٹرمپ نے اس کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔
تاہم انھوں نے ایران پر معاہدے کی روزانہ بنیاد پر خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ہر روز اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور دھوکہ دیتے ہیں۔‘

