اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں جعلسازی کا ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں چار خواتین پر مشتمل ایک گروہ سرکاری مجسٹریٹ اور ان کی ٹیم کا روپ دھار کر ہوٹلوں پر چھاپے مارتا اور بھاری جرمانے وصول کرتا رہا۔
مذکورہ خواتین خود کو ضلعی انتظامیہ کا حصہ ظاہر کر کے شہر کے مختلف ہوٹلوں میں داخل ہوتیں اور صفائی یا دیگر معمولی بہانوں پر بھاری جرمانے عائد کر کے موقع پر ہی رقوم وصول کر لیتیں۔ ذرائع کے مطابق یہ گروہ اب تک تین ہوٹلوں سے جرمانے کی مد میں خطیر رقم ہتھیا چکا تھا۔
اس گروہ کی کارروائی کا خاتمہ تب ہوا جب یہ خواتین چوتھے ہوٹل پر چھاپہ مارنے پہنچیں۔ ہوٹل کے مالک کو ان کے رویے اور طریقہ کار پر شک ہوا، جس پر اس نے فوری طور پر اصل مجسٹریٹ کے دفتر میں موجود آپریٹر سے رابطہ کر کے تصدیق کی۔ دفتر سے یہ انکشاف ہوا کہ ایسی کوئی ٹیم کسی بھی کارروائی کے لیے نہیں بھیجی گئی، جس کے بعد ہوٹل مالک نے پولیس کو اطلاع دی اور موقع پر پہنچ کر جعلسازوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس واقعے نے دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جعلسازوں کا اس ڈھٹائی سے سرکاری وردی یا اختیارات کا لبادہ اوڑھ کر کارروائی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ مجرموں کے دل سے قانون کا خوف ختم ہو چکا ہے۔جب ریاست کے اختیارات اور سرکاری چھاپوں کی نقل کرنا اتنا آسان ہو جائے، تو یہ انتظامیہ کی نگرانی کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر کوئی عام شہری سرکاری اہلکار بن کر کسی کو لوٹ سکتا ہے، تو یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا انتظامیہ کے پاس اپنے اختیارات کو تحفظ دینے اور جعل سازی روکنے کے لیے کوئی موثر میکانزم موجود نہیں؟
پولیس نے مقدمہ درج کر کے گرفتار خواتین سے تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم یہ واقعہ اسلام آباد جیسے حساس شہر کی سیکیورٹی اور انتظامی امور کی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہ
اسلام آباد میں "جعلی لیڈیز مجسٹریٹ گینگ” کا پردہ فاش؛ ہوٹلوں پر چھاپے مار کر رقوم بٹورنے والی 4 خواتین گرفتار


