نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی ایک چونکا دینے والی نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ ویسٹ ونگ میں ہونے والی معلومات کی لیکس اب صدر کے اندرونی مشیروں کے حلقے تک سرایت کر چکی ہیں اور ممکن ہے کہ انہی افراد نے نیویارک ٹائمز کے رپورٹرز کو سیچویشن روم کے اندر ہونے والی محفوظ گفتگوؤں کی ریکارڈنگز فراہم کی ہوں۔
اتوار کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں 1600 پنسلوانیا ایونیو کے پس پردہ جاری شدید بے چینی کی تصویر پیش کی گئی ہے، جہاں انتظامیہ کے اعلیٰ حکام اس ماہ کے آخر میں شائع ہونے والی کتاب رجیم چینج کے اجرا کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ کتاب واشنگٹن کے دو انتہائی باخبر صحافیوں میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوین کی تازہ ترین تصنیف ہے۔
ایگزیوس کے مطابق حکام کا خیال ہے کہ سیچویشن روم میں ٹرمپ کے اعلیٰ معاونین کے درمیان ہونے والی گفتگوؤں کی خفیہ ریکارڈنگز کی گئیں، جو سکیورٹی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہو گی۔
اگر یہ خدشات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ اس کمرے سے غیر مجاز ریکارڈنگز کا پہلا معلوم واقعہ ہوگا۔
یہ کمرہ دنیا کے محفوظ ترین مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور پھر ان ریکارڈنگز کا میڈیا تک پہنچ جانا مزید غیر معمولی بات ہو گی۔
انتظامیہ کے ایک ذریعے نے ایگزیوس کو بتایا ’ہمیں خدشہ ہے ہماری کچھ انتہائی حساس گفتگوؤں کی ریکارڈنگ کی جا رہی تھی اور ہمیں بالکل معلوم نہیں کہ کون سی گفتگوئیں ریکارڈ کی گئیں۔‘
وائٹ ہاؤس نے اتوار کو دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
دنیا کے محفوظ ترین کمرے کی وائس ریکارڈنگز لیک ہونے پر وائٹ ہاؤس میں کھلبلی، حکام کی دوڑیں، ایگزیوس کی رپورٹ

