صوابی (ڈسٹرکٹ رپورٹر حق نوازخان سے
صوابی پریس کلب رجسٹرڈ کا بڑا اعلان
ضلع صوابی کے صحافیوں کے ساتھ صوبائی حکومت اور مقامی منتخب نمائندوں کے امتیازی رویے کے خلاف ضلع بھر میں بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
15 سالہ مسلسل اقتدار کے باوجود حکمران جماعت صوابی کے صحافیوں کو پریس کلب بلڈنگ اور سرکاری گرانٹ فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہی۔ صوبے کے دیگر اضلاع میں پریس کلبز کیلئے فنڈز، گرانٹس اور جدید عمارتیں فراہم کی گئیں، مگر ضلع صوابی کے صحافیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔
صوابی پریس کلب رجسٹرڈ، جو ضلع بھر کے ورکنگ جرنلسٹس کا مشترکہ، فعال اور رجسٹرڈ پلیٹ فارم ہے، آج اپنے حقوق کے حصول کیلئے احتجاج پر مجبور ہو چکا ہے۔ صحافیوں کے تحفظ، فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ حقوق اور ادارہ جاتی استحکام کیلئے اب خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔
صوابی 1988میں ضلع کا درجہ حاصل کرنے والے صوابی میں آج تک صحافیوں کیلئے مستقل پریس کلب بلڈنگ موجود نہیں۔ سابق دور حکومت میں پریس کلب کیلئے تعمیر کی گئی عمارت بھی صحافیوں کے حوالے کرنے کے بجائے دیگر اداروں کے سپرد کر دی گئی۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، شہرام خان ترکئی، متعدد ایم پی ایز، وزراء اور سینیٹرز بارہا وعدوں کے باوجود صوابی کے صحافیوں کو ایک باوقار پریس کلب بلڈنگ اور سرکاری گرانٹ فراہم نہ کر سکے۔ افسوس کہ چند زر خرید عناصر کی وجہ سے صحافی برادری کے حقیقی نمائندہ ادارے کو مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔
صوابی پریس کلب رجسٹرڈ واضح کرتا ہے کہ ضلع بھر کے تمام ورکنگ جرنلسٹس کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ بہت جلد احتجاجی تحریک، ہڑتال اور صوابی امن چوک میں دھرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
اس تحریک میں اپوزیشن جماعتوں، ٹرانسپورٹ یونینز، ایمپلائز یونینز، سول سوسائٹی،وکلاء، سماجی و مذہبی تنظیموں اور عوامی حلقوں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ صحافی برادری کے جائز حقوق کیلئے مشترکہ جدوجہد کی جا سکے۔
"صحافیوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا”
"پریس کلب بلڈنگ اور گرانٹ ہمارا حق ہے”
"آزاد صحافت، مضبوط جمہوریت کی ضمانت ہے”
صوابی پریس کلب رجسٹرڈ
