پاکستان کے کاروباری طبقے کا نئے ٹیکسوں کے خلاف اعلانِ جنگ: "230 ارب کے مزید بوجھ سے معیشت ڈوب جائے گی”
لاہور (نیوز ڈیسک)
پاکستان کی ممتاز کاروباری تنظیم ‘بزنس مین پینل’ (BMP) نے آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کے تحت آئندہ وفاقی بجٹ میں 230 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کے حکومتی ارادے کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ صنعتوں کی مکمل بندش اور معاشی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
چیئرمین بزنس مین پینل میاں انجم نثار نے ایک خصوصی بیان میں کہا کہ پاکستانی معیشت اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کاروباری برادری پہلے ہی کئی محاذوں پر جدوجہد کر رہی ہے:
توانائی کے ہوشربا اخراجات: بجلی اور گیس کی قیمتوں نے پیداواری لاگت کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔
مہنگی فنانسنگ: شرحِ سود میں اضافے نے نئے منصوبوں کے لیے قرض لینا ناممکن بنا دیا ہے۔
کرنسی کا عدم استحکام: روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے خام مال کی درآمد کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مانگ میں کمی: مہنگائی کے باعث عوام کی قوتِ خرید جواب دے گئی ہے، جس سے طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔
میاں انجم نثار نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر بجٹ میں ریونیو کا تمام بوجھ انہی چند صنعتوں اور پرانے ٹیکس دہندگان پر ڈال دیا جاتا ہے جو پہلے ہی ایمانداری سے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دے اور دستاویزی معیشت کی حوصلہ افزائی کرے۔
بزنس مین پینل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ کا رخ محض ‘ٹیکس وصولی’ کے بجائے ‘صنعتی بحالی’ کی طرف موڑا جائے۔ میاں انجم نثار کے مطابق ملک کو ایسے بجٹ کی ضرورت ہے جوبرآمدات (Exports) میں اضافے کے لیے مراعات فراہم کرے۔بند ہوتی ہوئی صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اقدامات کرے اورنوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے کہنے پر مزید بوجھ ڈالا، تو اس کا نتیجہ سرمائے کے فرار اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی صورت میں نکلے گا۔
بجٹ 2026-27،آئی ایم ایف کی فرمائش پر 230 ارب کے مزید ٹیکس لگانے کی تیاریاں

