Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گوتم اڈانی سے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کس نے چھینا؟

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

      کیا اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا استعمال مہنگا ہونے والا ہے؟ ’میٹا ون‘ متعارف کرا دی گئی

      عالمی سیکیورٹی گورننس کا قیام ،نئے عالمی ہتھیاروں کی دوڑ پر ضابطے لاگو کیے جائیں: چین کا مطالبہ

      بلیک ہول اورستاروں کی پیدائش بارے تحقیق میں اہم انکشاف

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سچ، قانون اور انصاف، دو معاشروں کی سوچ کا فرق بے نقاب، پنجاب پولیس کا افسر حیران

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    حریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پنجاب پولیس کے ایک افسر اقوامِ متحدہ کے کوسوو امن مشن پر تعینات تھے۔ ایک روز انہیں قتل کے ایک مقدمے کی تفتیش سونپی گئی۔ افسر پوری تیاری اور روایتی ذہن کے ساتھ اپنی ٹیم سمیت ملزم کی گرفتاری کے لیے روانہ ہوا۔ اس کے ذہن میں وہی منظر تھے جو وہ برسوں اپنے ملک میں دیکھتا آیا تھا، ملزم فرار ہوگا، انکار کرے گا، شور مچائے گا، سیاسی یا سماجی دباؤ استعمال کرے گا، اور سچ تک پہنچنے کے لیے لمبی تفتیش درکار ہوگی۔
    مگر وہاں پہنچ کر منظر مختلف تھا۔ ملزم اپنے ھر میں سکون سے موجود تھا۔ پولیس کو دیکھ کر نہ اس نے بھاگنے کی کوشش کی، نہ چیخ و پکار کی، نہ وارنٹ مانگے اور نہ ہی بے گناہی کے دعوے شروع کیے۔ افسر نے اسے بتایا کہ اس پر ایک نوجوان کے قتل کا الزام ہے۔ ملزم نے نہایت سادگی سے جواب دیا جی، قتل میں نے ہی کیا ہے۔ افسر حیران رہ گیا۔ وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ دونوں نے شراب پی رکھی تھی، مقتول نے گالیاں دیں، غصہ آیا اور نشے کی حالت میں اسے قتل کر دیا۔ پھر جب پولیس نے ساتھ چلنے کو کہا تو اس نے صرف اتنا کہا کہ میں کپڑے بدل کر آتا ہوں اور واقعی وہ کپڑے تبدیل کر کے خود پولیس کے ساتھ چل پڑا۔ عدالت میں پیشی ہوئی۔ جج نےالزامات بتائے تو ملزم نے وہی بیان دہرایا جو پولیس کو دیا تھا۔ عدالت نے حقائق، اعتراف اور وقوعے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے نشے کی حالت میں قتل کے تناظر میں تین سال قید کی سزا سنائی۔ پنجاب پولیس کا وہ افسر حیرت میں ڈوبا رہا۔اسے اپنے ملک کا نظام یاد آ رہا تھا، جہاں اکثر ملزم گرفتاری سے پہلے فرار ہو جاتا ہے، پکڑا جائے تو انکار پر انکار، جھوٹ پر جھوٹ، پھر لمبی تفتیش، شواہد کی تلاش، گواہوں کی منتیں، وسائل کا استعمال، دباؤ، سفارشیں، دھمکیاں، اور آخرکار ایک مضبوط چالان تیار کر کے پراسیکیوشن کے حوالے کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد عدالتوں میں تاریخ پر تاریخ شروع ہو جاتی ہے۔ کئی بار برسوں مقدمہ چلتا رہتا ہے، گواہ منحرف ہو جاتے ہیں، متاثرہ خاندان تھک جاتا ہے، اور ملزم ضمانت پر باہر آ جاتا ہے۔
    دو ملکوں کے قانونی فرق کی کہانی بلکہ دو معاشروں کی سوچ کا فرق جہاں قانون پر اعتماد ہوتا ہے، وہاں سچ بولنا کمزوری نہیں سمجھا جاتا۔ وہاں شہری جانتے ہیں کہ انصاف جھوٹ، سفارش یا طاقت سے نہیں بلکہ حقائق سے ہوگا۔ اسی لیے نظام مختصر، تفتیش آسان اور فیصلے تیز ہوتے ہیں۔ مگر جہاں قانون پر اعتماد کمزور پڑ جائے، وہاں ہر شخص خود کو بچانے کے لیے جھوٹ، اثرورسوخ اور تاخیری حربوں کا سہارا لیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان بداعتمادی بڑھتی جاتی ہے، عدالتوں پر بوجھ بڑھتا ہے، اور انصاف سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ پنجاب پولیس سمیت پاکستان کے تفتیشی ادارے انتہائی مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔ محدود وسائل، سیاسی دباؤ، گواہوں کا عدم تحفظ، پیچیدہ عدالتی عمل اور سماجی رویے ان کے کام کو مزید دشوار بنا دیتے ہیں۔ اگر ایک معاشرہ سچ بولنے کو معمول بنا لے تو انصاف کا سفر کتنا آسان ہو سکتا ہے۔
    اصل طاقت صرف سخت قانون میں نہیں، بلکہ اس اجتماعی شعور میں ہوتی ہے جہاں شہری جانتے ہوں کہ جرم کے بعد جھوٹ نہیں بلکہ سچ ہی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ شاید اسی لیے مہذب معاشروں میں قانون کا خوف کم اور قانون پر یقین زیادہ ہوتا ہے۔

    Related Posts

    پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز کا انٹر میڈیٹ نتائج کی تاریخوں کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام اسکول کرکٹ چیمپئن شپ کی افتتاحی تقریب

    دیہاتی زندگی میں چوپال کی اہمیت

    مقبول خبریں

    پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز کا انٹر میڈیٹ نتائج کی تاریخوں کا اعلان

    دوسرے ون ڈے میں آسٹریلیا کی زمبابوے کے خلاف 84 رنز سے شاندار فتح، ٹریوس ہیڈ کی شاندار سینچری

    کوہاٹ دھماکہ میں شہیداورزخمی ہونیوالے پولیس اہلکاروں کے نام

    گرلز پرائمری سکول میں اوباش کا زبردستی داخلہ، بچوں پر تشدد اور اساتذہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

    پرندہ ٹکرانے کے بعد F-16 لڑاکا طیارہ کھیت میں گر کر تباہ، پائلٹ بروقت ایجکٹ کرنے میں کامیاب

    بلاگ

    دیہاتی زندگی میں چوپال کی اہمیت

    خانۂ خدا بھی محفوظ نہیں!

    خلیج اور فارس کی جنگ—امکانات، اثرات اور پاکستان کی حکمتِ عملی

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.