حریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب پولیس کے ایک افسر اقوامِ متحدہ کے کوسوو امن مشن پر تعینات تھے۔ ایک روز انہیں قتل کے ایک مقدمے کی تفتیش سونپی گئی۔ افسر پوری تیاری اور روایتی ذہن کے ساتھ اپنی ٹیم سمیت ملزم کی گرفتاری کے لیے روانہ ہوا۔ اس کے ذہن میں وہی منظر تھے جو وہ برسوں اپنے ملک میں دیکھتا آیا تھا، ملزم فرار ہوگا، انکار کرے گا، شور مچائے گا، سیاسی یا سماجی دباؤ استعمال کرے گا، اور سچ تک پہنچنے کے لیے لمبی تفتیش درکار ہوگی۔
مگر وہاں پہنچ کر منظر مختلف تھا۔ ملزم اپنے ھر میں سکون سے موجود تھا۔ پولیس کو دیکھ کر نہ اس نے بھاگنے کی کوشش کی، نہ چیخ و پکار کی، نہ وارنٹ مانگے اور نہ ہی بے گناہی کے دعوے شروع کیے۔ افسر نے اسے بتایا کہ اس پر ایک نوجوان کے قتل کا الزام ہے۔ ملزم نے نہایت سادگی سے جواب دیا جی، قتل میں نے ہی کیا ہے۔ افسر حیران رہ گیا۔ وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ دونوں نے شراب پی رکھی تھی، مقتول نے گالیاں دیں، غصہ آیا اور نشے کی حالت میں اسے قتل کر دیا۔ پھر جب پولیس نے ساتھ چلنے کو کہا تو اس نے صرف اتنا کہا کہ میں کپڑے بدل کر آتا ہوں اور واقعی وہ کپڑے تبدیل کر کے خود پولیس کے ساتھ چل پڑا۔ عدالت میں پیشی ہوئی۔ جج نےالزامات بتائے تو ملزم نے وہی بیان دہرایا جو پولیس کو دیا تھا۔ عدالت نے حقائق، اعتراف اور وقوعے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے نشے کی حالت میں قتل کے تناظر میں تین سال قید کی سزا سنائی۔ پنجاب پولیس کا وہ افسر حیرت میں ڈوبا رہا۔اسے اپنے ملک کا نظام یاد آ رہا تھا، جہاں اکثر ملزم گرفتاری سے پہلے فرار ہو جاتا ہے، پکڑا جائے تو انکار پر انکار، جھوٹ پر جھوٹ، پھر لمبی تفتیش، شواہد کی تلاش، گواہوں کی منتیں، وسائل کا استعمال، دباؤ، سفارشیں، دھمکیاں، اور آخرکار ایک مضبوط چالان تیار کر کے پراسیکیوشن کے حوالے کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد عدالتوں میں تاریخ پر تاریخ شروع ہو جاتی ہے۔ کئی بار برسوں مقدمہ چلتا رہتا ہے، گواہ منحرف ہو جاتے ہیں، متاثرہ خاندان تھک جاتا ہے، اور ملزم ضمانت پر باہر آ جاتا ہے۔
دو ملکوں کے قانونی فرق کی کہانی بلکہ دو معاشروں کی سوچ کا فرق جہاں قانون پر اعتماد ہوتا ہے، وہاں سچ بولنا کمزوری نہیں سمجھا جاتا۔ وہاں شہری جانتے ہیں کہ انصاف جھوٹ، سفارش یا طاقت سے نہیں بلکہ حقائق سے ہوگا۔ اسی لیے نظام مختصر، تفتیش آسان اور فیصلے تیز ہوتے ہیں۔ مگر جہاں قانون پر اعتماد کمزور پڑ جائے، وہاں ہر شخص خود کو بچانے کے لیے جھوٹ، اثرورسوخ اور تاخیری حربوں کا سہارا لیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان بداعتمادی بڑھتی جاتی ہے، عدالتوں پر بوجھ بڑھتا ہے، اور انصاف سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ پنجاب پولیس سمیت پاکستان کے تفتیشی ادارے انتہائی مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔ محدود وسائل، سیاسی دباؤ، گواہوں کا عدم تحفظ، پیچیدہ عدالتی عمل اور سماجی رویے ان کے کام کو مزید دشوار بنا دیتے ہیں۔ اگر ایک معاشرہ سچ بولنے کو معمول بنا لے تو انصاف کا سفر کتنا آسان ہو سکتا ہے۔
اصل طاقت صرف سخت قانون میں نہیں، بلکہ اس اجتماعی شعور میں ہوتی ہے جہاں شہری جانتے ہوں کہ جرم کے بعد جھوٹ نہیں بلکہ سچ ہی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ شاید اسی لیے مہذب معاشروں میں قانون کا خوف کم اور قانون پر یقین زیادہ ہوتا ہے۔
سچ، قانون اور انصاف، دو معاشروں کی سوچ کا فرق بے نقاب، پنجاب پولیس کا افسر حیران


