Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      واٹس ایپ کا مخصوص آئی فون ڈیوائسز کی سپورٹ ختم کرنیکا فیصلہ

      پاکستان کا نام روشن: سابق چیئرمین نادرا طارق ملک دنیا کے ٹاپ 25 ‘آئیڈنٹٹی لیڈرز’ میں شامل؛تصویر ٹائمز اسکوئر پر

      ڈرون ٹیکنالوجی میں ‘بھالے’ جیسا وار: ترکیہ کا نیا اے آئی ‘مزراق’ ڈرون متعارف؛ جی پی ایس جیمنگ بھی اسے روکنے میں ناکام!

      سنہری موقع ،ٹویوٹا نے فارچیونر کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کردی

      پاک بحریہ کی جدید ترین آبدوز ”ہنگور“ کو کمیشن کی تقریب

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ہنٹا وائرس اور ایران۔امریکا جنگ: پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: ڈاکٹر محمد داود
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    عالمی منظرنامہ اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں متعدی امراض اور جغرافیائی تنازعات ایک دوسرے سے جڑ کر انسانی صحت کے لیے پیچیدہ چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ ہنٹا وائرس ایک ایسا ہی خاموش مگر مہلک خطرہ ہے، جبکہ 2026 کی ایران۔امریکاجنگ نے پورے خطے میں صحت کے نظام کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان، جو جغرافیائی اور سماجی لحاظ سے ایران کے قریب ہے، اس دوہرے خطرے سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔
    ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں اور دیگر قارضین کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، خصوصاً ان کے فضلے، پیشاب یا لعاب کے ذریعے۔ یہ وائرس شدید نوعیت کی بیماریوں جیسے ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم (HPS) اور ہیموریجک فیور ود رینل سنڈروم (HFRS) کا باعث بنتا ہے، جن میں شرحِ اموات کافی بلند ہو سکتی ہے اور بعض کیسز میں 40 فیصد تک رپورٹ کی گئی ہے۔
    حالیہ عالمی صورتحال میں ایک نہایت اہم مثال بحرِ اوقیانوس میں کیپ ٹاؤن کے قریب (کیپ وردے کے ساحل کے نزدیک) ایک کروز شپ پر سامنے آئی، جہاں ہنٹا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ نے ایک محدود مگر انتہائی سنگین صحت بحران کو جنم دیا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 7 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 3 اموات، ایک انتہائی تشویشناک مریض، اور متعدد دیگر متاثرہ افراد شامل تھے۔ مزید اطلاعات کے مطابق کئی مریض شدید سانس کی تکلیف، بخار اور ملٹی آرگن پیچیدگیوں کا شکار ہوئے، جبکہ کچھ افراد کو انتہائی نگہداشت (ICU) میں منتقل کرنا پڑا۔ (PBS) یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہنٹا وائرس اگرچہ عام نہیں، مگر اس کی morbidity (شدید بیماری کی شرح) اور mortality (شرح اموات) دونوں ہی نہایت تشویشناک ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بند اور محدود ماحول جیسے کروز شپ میں۔
    ایران میں بھی ہنٹا وائرس کے شواہد موجود ہیں، جہاں مختلف مطالعات نے انسانی آبادی میں اینٹی باڈیز کی موجودگی ظاہر کی ہے۔ تاہم، محدود تشخیص اور آگاہی کے باعث اس بیماری کی اصل شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایسے میں ایران۔امریکا جنگ نے صحت کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ جنگی حالات میں انفراسٹرکچر کی تباہی، آبادی کی نقل مکانی اور صفائی کے ناقص حالات متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو تیز کر دیتے ہیں۔
    پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، زائرین کی آمدورفت، اور ممکنہ مہاجرین کی آمد ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس وائرس کی نہ تو باقاعدہ نگرانی ہوتی ہے اور نہ ہی زیادہ تر طبی مراکز میں اس کی تشخیص ممکن ہے۔
    میرے نزدیک سب سے بڑا خطرہ وائرس کی موجودگی نہیں بلکہ اس کی خاموش موجودگی ہے۔ اگر یہ بیماری بغیر تشخیص کے پھیلتی رہی تو یہ ایک "Silent Epidemic” کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ پہلے ہی ڈینگی، پولیو اور ٹی بی جیسے امراض کے بوجھ تلے دبا ہوا نظامِ صحت ایک نئے خطرے کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا۔
    ایسے میں ضروری ہے کہ پاکستان فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی اپنائے۔ ہنٹا وائرس کو قومی بیماریوں کے نگرانی کے نظام میں شامل کیا جائے، بارڈر ہیلتھ سیکیورٹی کو مضبوط بنایا جائے، اور "ون ہیلتھ” اپروچ کے تحت انسانوں، جانوروں اور ماحول کے درمیان تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے جائیں۔ عوامی سطح پر آگاہی، صفائی کے اصول، اور چوہوں سے بچاؤ کے طریقوں کو فروغ دینا بھی نہایت ضروری ہے۔
    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں جنگ اور بیماری الگ الگ مسائل نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ ایران۔امریکاجنگ نے جہاں خطے میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا ہے، وہیں اس نے ہنٹا وائرس جیسے مہلک مگر نظرانداز شدہ خطرات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ وہ ردِعمل کی بجائے پیشگی حکمت عملی اپنائے، کیونکہ صحت کا بحران سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا۔

    Related Posts

    پولیس کی اپنی ہی ٹیم کی مبینہ فائرنگ سے ایس ایچ او جاں بحق

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    کوئٹہ میں شہید لیفٹیننٹ کرنل خالد حسین کی نماز جنازہ ادا

    مقبول خبریں

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    سونے ، چاندی کابڑا جمپ

    کفایت شعاری مہم یا کچھ اور؟ امریکا نے پشاور میں قونصل خانہ بند کردیا

    ’امن معاہدے‘ کے اشارے: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ؛ برینٹ کی اونچی اڑان تھم گئی!

    تاریخی فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت برابر، کوئی کسی کے ماتحت نہیں!

    بلاگ

    ہنٹا وائرس اور ایران۔امریکا جنگ: پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    کیا پاکستان میں مارشل لا قریب ہے؟ — ایک محتاط مگر واضح تجزیہ

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو—قانونی فیصلہ یا سیکیورٹی اسٹریٹیجی؟

    بین الاقوامی منافقت اور دوہرے معیار عالمی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.