تحریر: ڈاکٹر محمد داود
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
عالمی منظرنامہ اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں متعدی امراض اور جغرافیائی تنازعات ایک دوسرے سے جڑ کر انسانی صحت کے لیے پیچیدہ چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ ہنٹا وائرس ایک ایسا ہی خاموش مگر مہلک خطرہ ہے، جبکہ 2026 کی ایران۔امریکاجنگ نے پورے خطے میں صحت کے نظام کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان، جو جغرافیائی اور سماجی لحاظ سے ایران کے قریب ہے، اس دوہرے خطرے سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔
ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں اور دیگر قارضین کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، خصوصاً ان کے فضلے، پیشاب یا لعاب کے ذریعے۔ یہ وائرس شدید نوعیت کی بیماریوں جیسے ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم (HPS) اور ہیموریجک فیور ود رینل سنڈروم (HFRS) کا باعث بنتا ہے، جن میں شرحِ اموات کافی بلند ہو سکتی ہے اور بعض کیسز میں 40 فیصد تک رپورٹ کی گئی ہے۔
حالیہ عالمی صورتحال میں ایک نہایت اہم مثال بحرِ اوقیانوس میں کیپ ٹاؤن کے قریب (کیپ وردے کے ساحل کے نزدیک) ایک کروز شپ پر سامنے آئی، جہاں ہنٹا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ نے ایک محدود مگر انتہائی سنگین صحت بحران کو جنم دیا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 7 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 3 اموات، ایک انتہائی تشویشناک مریض، اور متعدد دیگر متاثرہ افراد شامل تھے۔ مزید اطلاعات کے مطابق کئی مریض شدید سانس کی تکلیف، بخار اور ملٹی آرگن پیچیدگیوں کا شکار ہوئے، جبکہ کچھ افراد کو انتہائی نگہداشت (ICU) میں منتقل کرنا پڑا۔ (PBS) یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہنٹا وائرس اگرچہ عام نہیں، مگر اس کی morbidity (شدید بیماری کی شرح) اور mortality (شرح اموات) دونوں ہی نہایت تشویشناک ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بند اور محدود ماحول جیسے کروز شپ میں۔
ایران میں بھی ہنٹا وائرس کے شواہد موجود ہیں، جہاں مختلف مطالعات نے انسانی آبادی میں اینٹی باڈیز کی موجودگی ظاہر کی ہے۔ تاہم، محدود تشخیص اور آگاہی کے باعث اس بیماری کی اصل شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایسے میں ایران۔امریکا جنگ نے صحت کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ جنگی حالات میں انفراسٹرکچر کی تباہی، آبادی کی نقل مکانی اور صفائی کے ناقص حالات متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو تیز کر دیتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، زائرین کی آمدورفت، اور ممکنہ مہاجرین کی آمد ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس وائرس کی نہ تو باقاعدہ نگرانی ہوتی ہے اور نہ ہی زیادہ تر طبی مراکز میں اس کی تشخیص ممکن ہے۔
میرے نزدیک سب سے بڑا خطرہ وائرس کی موجودگی نہیں بلکہ اس کی خاموش موجودگی ہے۔ اگر یہ بیماری بغیر تشخیص کے پھیلتی رہی تو یہ ایک "Silent Epidemic” کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ پہلے ہی ڈینگی، پولیو اور ٹی بی جیسے امراض کے بوجھ تلے دبا ہوا نظامِ صحت ایک نئے خطرے کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا۔
ایسے میں ضروری ہے کہ پاکستان فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی اپنائے۔ ہنٹا وائرس کو قومی بیماریوں کے نگرانی کے نظام میں شامل کیا جائے، بارڈر ہیلتھ سیکیورٹی کو مضبوط بنایا جائے، اور "ون ہیلتھ” اپروچ کے تحت انسانوں، جانوروں اور ماحول کے درمیان تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے جائیں۔ عوامی سطح پر آگاہی، صفائی کے اصول، اور چوہوں سے بچاؤ کے طریقوں کو فروغ دینا بھی نہایت ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں جنگ اور بیماری الگ الگ مسائل نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ ایران۔امریکاجنگ نے جہاں خطے میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا ہے، وہیں اس نے ہنٹا وائرس جیسے مہلک مگر نظرانداز شدہ خطرات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ وہ ردِعمل کی بجائے پیشگی حکمت عملی اپنائے، کیونکہ صحت کا بحران سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا۔
ہنٹا وائرس اور ایران۔امریکا جنگ: پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ

