یروشلم/تہران (مانیٹرنگ ڈیسک): مشرق وسطیٰ سے ایک لرزہ خیز خبر سامنے آئی ہے جہاں اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ایک بڑے آپریشن کے دوران ایرانی حکومت کے کئی اہم مہروں اور عسکری عہدیداروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
BREAKING: Several senior figures critical to the Iranian regime have reportedly been eliminated.
According to a high-ranking Israeli military source:
“Three sites where gatherings of Iranian terror regime officials were taking place were struck simultaneously, and several… pic.twitter.com/XGgED1MySW
— Fox News (@FoxNews) February 28, 2026
فوکس نیوز کی رپورٹ کےمطابق اعلیٰ سطح کے اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی انٹیلی جنس کو ایرانی حکام کے خفیہ اجلاسوں کی اطلاع ملی تھی جس کے بعدان تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں ایرانی حکومت کے اہم عہدیدار مہم جوئی اور حکومتی امور چلانے کے لیے جمع تھے۔
صیہونی ریاست نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے وزیر دفاع امیر ناصرزادہ اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔اس حوالے سے دیگر تین ذرائع نے بھی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امیر ناصرزادہ تہران میں ہونے والے حملے کا نشانہ بنے۔ اسرائیلی فوج نے پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور کے بارے میں بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ انہی حملوں میں مارے گئے۔
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں وہ "کلیدی شخصیات” ماری گئی ہیں جو ایرانی حکومت کے ڈھانچے اور عسکری مہمات کو منظم کرنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق یہ حملے ایران کی گورننس (نظامِ حکومت) اور مہم جوئی کی صلاحیت کو اپاہج کرنے کے لیے کیے گئے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ایک "فیصلہ کن ضرب” ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایرانی حکومت کے لیے اپنے نیٹ ورک کو بحال رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
تاہم، ابھی تک ایران کی جانب سے ان ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ تہران میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

