نئی دہلی :
سی جے پی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، پارٹی کے شریک کنوینرز آشوتوش رانکا، سوربھ داس اور قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ کی قیادت میں رہنماؤں نے پارلیمنٹ سٹریٹ تھانے کا رخ کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ جنتر منتر پر اپنے پرامن احتجاج کے لیے باضابطہ تاریخ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اتوار کے روز پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے دو ساتھیوں کو پولیس حراست سے رہا کیا گیا تھا، جس کے بعد جماعت نے اپنی سرگرمیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی کے اعلان کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں نے پیر کے روز سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ کیا۔ اس دوران چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں درج ذیل اہم مطالبات شامل ہیں:”ووٹ چوری” کے عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔ایس آئی آر (SIR) کے تنازع اور عمل کو بند کیا جائے۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔
دہلی میں جاری اس سیاسی رسہ کشی اور احتجاج کے پیش نظر دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اہم نوعیت کے اقدامات کرتے ہوئے شہر کے 6 میٹرو اسٹیشنز کو تقریباً 10 گھنٹوں کے لیے بند کر دیا۔
دریں اثنا، ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز پر جن میں ہندوتوا تنظیم ‘ہندو رکشا دل’ کے ارکان کو مظاہرین پر تشدد کرتے اور گالیاں دیتے ہوئے دیکھا گیا تھا، دہلی پولیس نے سخت نوٹس لیا ہے۔ ہندو رکشا دل کے سربراہ بھوپیندر چودھری (پنکی بھیا) کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار نامزد افراد (رمن سینی، وویکانند، کپل کمار اور رویندر سنگھ) کے خلاف مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا پولیس کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم،مظاہرین پر ہندوتوا تنظیم کے حملے

